بھارت: ’ہم جنسی پرستی قابل جرم فعل نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کئی مذہبی اور سماجی تنظمیں ہم جنس پرستی کے خلاف مہم چلا رہی ہیں

بھارت میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہےکہ وہ ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر نکالنے کے مکمل حق میں ہے اور اس سلسلے میں دلّی ہائی کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتی ہے۔

دّلی ہائی کورٹ نے سنہ دو ہزار دس میں ایک تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ہی جنس کے دو بالغ اگر اپنی مرضی سے جنسی عمل کرتے ہیں تو اسے جرم تصور نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی کابینہ نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن کئی مذہبی اور سماجی تنظیموں نے سپریم کورٹ میں اپیل کر کے کہا تھا کہ ہم جنس پرستی’غیرفطری عمل‘ ہے اور بھارت کی روایتی اقدار سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

اس کے بعد سپریم کورٹ کے نوٹس کے جواب میں وزارت داخلہ اور وزارت صحت کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینیئر سرکاری وکلاء نے متضاد موقف اختیار کیے تھے جس پر عدالت عظمیٰ نے حکومت پر سخت تنقید بھی کی تھی۔

لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت پر وضاحت پیش کرتے ہوئے بدھ کو اٹارنی جنرل جی این واہن وتی نے کہا کہ اسے ہائی کورٹ کا فیصلہ پوری طرح تسلیم ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگرچہ حکومت پہلے اس فیصلے کے خلاف تھی لیکن بعد میں اسے احساس ہوا کہ ہائی کورٹ نے صحیح فیصلہ سنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ ہمیں قبول ہے، ہمیں بعد میں یہ احساس ہوا، (ایک ہی جنس کے) دو بالغوں کے درمیان ان کی مرضی سے جنسی عمل کو جرم قرار دینے سے ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔‘

اس سے پہلے وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ وہ ہم جنس پرستی کو ’غیر اخلاقی ‘ مانتی ہے اور اس کے خیال میں یہ عمل’ غیر فطری ہے اور اس سے ایچ آئی وی کے وائرس پھیلتا ہے۔‘

لیکن اس کے کچھ ہی دیر بعد وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہاگیا تھا کہ ہم جنس پرستی کے سوال پر حکومت کا کوئی نیا موقف نہیں ہے۔

اسی بارے میں