کوئلے کی کان کنی، کروڑوں کےگھپلے کا الزام

Image caption اس سے پہلے سی اے جی کی رپورٹ کے لیے اس کے سربراہ پر تنقید ہوتی رہی ہے

بھارت کے سرکاری نگران ادارے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ( سی اے جی) کی ایک ڈرافٹ رپورٹ کے حوالے سے حکومت پر کوئلے کی کان کنی میں بد عنوانی کا الزام عائد کیا گيا ہے۔

بھارت کے ایک انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے سی اے جی کی ڈرافٹ رپورٹ کو شائع کیا ہے جس پر پارلیمان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔

لیکن وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری کیےگیے ایک بیان میں کہا گيا ہے یہ حتمی رپورٹ نہیں اور خود ادارے نے اسے بتایا ہے کہ رپورٹ کے حوالے سے غلط خبریں نشر کی گئی ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار چار سے نو کے درمیان ڈیڑھ سو سے زائد کوئلے کی فیلڈز جو سو نجی اور بعض سرکاری کمپنیوں کو کان کنی کے لیے دی گئیں ان میں بے ضابطگیاں برتی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان کی نیلامی کی جانی چاہیے تھی تاکہ جو کمپنی سب سے زيادہ پیسہ دیتی اسے ٹھیکہ دیا جاتا۔ اور ایسا نا کرنے سے حکومت کو تقریباً دس لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔

رپورٹ میں بدعنوانی کا الزام تو نہیں لگایا گیا لیکن یہ بات کہی گئی ہے کہ دانستہ طور پر ایسا کیا گیا ہے۔

سی اے جی کی یہ حتمی رپورٹ نہیں ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اس کی ابتدائی رپورٹ ہے اور نفع اور نقصان کے متعلق ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم منموہن سنگھ کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ سی اے جی کی طرف سے اسے ایک خط موصول ہوا جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے میڈیا میں ’گمراہ کن خبریں چل رہی ہیں۔‘

اس بیان کے مطابق ’اس سلسلے میں وزارت کی طرف سے وضاحت طلب کرنے پر فروری اور مارچ میں جو کانفرنس ہوئی تھی اس کے بعد اس پر نظر ثانی کی گئي اور سوچ بدل گئی ہے۔‘

اس سے قبل پارلیمان میں اسی مسئلے پر زبردست ہنگامہ ہوا جس کے سبب دونوں ایوانوں کی کاررائی معطل کرنا پڑی۔

حزب اختلاف کی تقریباً سبھی جماعتوں نے حکومت پر بدعنوانی کا الزام لگایا ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ حکومت اس طرح کی حرکتوں سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

کوئلے کے وزیر شری پرکاش جیسوال نے کہا کہ یہ معاملہ گزشتہ حکومت کے دور کا ہے اور ابھی بہت ہی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی تفصیل آنے پر ہی وہ کچھ کہہ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں