ماؤ نواز باغیوں نے یرغمال اطالوی کو رہا کر دیا

رہا کیا جانے والا اطالوی شہری تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماؤنواز باغیوں نے اتوار کی دوپہر کلوڈیو کولنجلو کو بعض صحافیوں کو سپرد کیا ہے

بھارت کی ریاست اڑیسہ کے کندھمال علاقے میں ماؤ نواز باغیوں نے جن دو اطالوی شہریوں کو یرغمال بنا لیا تھا ان میں سے ایک کو اتوار کی دوپہر رہا کر دیا گيا ہے۔

اطالوی شہری کو چند صحافیوں کے حوالے کیا گیا ہے جو اب انہیں پولیس کے پاس لے جا رہے ہیں۔

جس اطالوی شہری کو رہا کیا ہے انکا نام کلوڈیو کولنجلو ہے۔ رہائی کے بعد صحافیوں سے بات کرتےہوئے کلوڈیو نے کہا کہ نکسلیوں کے ساتھ گزارے گئے گیارہ دنوں کا تجربہ کافی ’خوفناک‘ تھا۔

واضح رہے کہ کلوڈیو کولنجلو اٹلی میں رہتے ہیں اور بھارت کی سیر پر آئے ہوئے تھے جبکہ دوسرے یرغمال بنائے جانے والے اطالوی شہری بوسکو پاؤلو گزشتہ انیس برس سے اڑیسہ میں ہی رہ رہے ہیں۔

بوسکو پاؤلو کی رہائی کے بارے ابھی کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ خصوصی بات چیت میں کلوڈیو کولنجلو کا کہنا تھا ’یہ دن میری زندگی کے سب سے مشکل دنوں میں سے ایک ہے۔ ایک تو وہاں کا موسم خراب تھا اور باغیوں کی جانب سے مجھے جو کھانا دیا جارہا تھا وہ کھانے کے لائق نہیں تھا۔ مجھے سب سے زيادہ فکر اپنے خاندان والوں کی ہو رہی تھی۔ مجھے معلوم ہے کہ میں ٹھیک ہوں لیکن وہ یہ بات نہیں جانتے ہیں۔‘

باغیوں کے سلوک کے بارے میں انکا کہنا تھا ’وہ لوگ ہمارے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آئے اور انہوں نے جان بوجھ کر ہمیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائی۔ مجھے نہیں معلوم انہوں نے ہمیں اغوا کیوں کیا؟ ان کے لیے شاید ہم سرکار تک جانے کاذریعہ تھے۔

کلوڈیو کولنجلو سے جب اپنے دوسرے ساتھی کی رہائی کےبارے میں پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا ’مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتہ لیکن میں امید کرتا ہوں وہ انہیں جلد رہا کر دیں گے۔‘

کلوڈیو کو رہا کرنے والے ماؤ نواز باغیوں کے ایک ترجمان نے کہا کہ کلوڈیو کو اس لیے رہا کیا گیا ہے تاکہ حکومت کے نمائندوں کے ساتھ گزشتہ روز معطل کی گئی بات چیت دوبارہ شروع کی جائے۔

واضح رہے کہ ماؤ نواز باغیوں نے سنیچر کو حکمراں جماعت بیجو جنتا دل کے رکن اسبملی جھینا ہیکاکا کو بھی اغوا کر لیا تھا۔

جھینا ہیکاکا کو دارالحکومت بھبنیشور سے تقریباً چھ سو کلومیٹر دور تایا پوٹ کے گھنے جنگلات سے اغوا کیا گیا تھا اور اس کارروائی میں تقریباً سو باغیوں نے حصہ لیا لیکن انہوں نے مسٹر ہیکاکا کے ذاتی محافظ اور ڈرائیور کو جانے دیا۔

یہ واقعہ رات دیر گئے پیش آیا اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلی نوین پٹنائک نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ سنیچر کو ماؤ نواز باغیوں نے پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

اڑیسہ میں ماؤ نواز نے تقریباً دو ہفتے پہلے دو اطالوی شہریوں کو اغوا کیا تھا اور حکومت سے کہا تھا کہ وہ علاقے میں ان کے خلاف آپریشن بند کرنے کے علاوہ ان کے بعض ساتھیوں کو رہا کرے تب ہی وہ ان اطالوی شہریوں کو رہا کریں گے۔

اسی بارے میں