بھارت: دھماکے سے پندرہ پولیس اہلکار ہلاک

سی آر پی ایف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سی آر پی ایف نوجوان ماؤنواز کے علاقوں میں احتیاط کے ساتھ چلتے ہیں۔

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ سے متصل ریاست مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلع میں ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے کے نتیجے میں بھارت کے نیم فوجی دستے سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے پندرہ اہلکار ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

گڑھ چرولی میں تعینات ایک سینیئر پولیس اہل کار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب گڑھ چرولی ضلع میں دھنورا کے نزدیک سی آرپی ایف کی بس ماؤنواز باغیوں کے ذریعہ بچھائی گئی بارودی سرنگ کی زد میں آگئی۔

انھوں نے بتایا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ پولیس بس کے پرخچے اڑ گئے اور دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ اس بس کو پیش آیا جو کپوا سے پھوبوری گٹّا جا رہی تھی اور یہ بارودی سرنگ سڑک کے بیچ بچھائی گئی تھی۔

گڑھ چرولی ضلع کی حدیں ریاست چھتیس گڑھ اور آندھر پردیش کے علاقوں سے ملی ہوئی ہیں اور یہ علاقہ ماؤنوا‌ز باغیوں کی پناہ سمجھا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق گڑھ چرولی میں سی آر پی ایف کے چار کیمپ مو جود ہیں جو کہ دھنورا، بامرا گڑھ، دیسے گڑھ میں قائم ہیں اور پولیس اہلکاروں کا ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ میں آنا جانا معمول کی بات ہے۔

لیکن ماؤنواز باغیوں کے زیر اثر ان علاقوں سے گذرتے ہوئے پولیس کے جوانوں کو خاص احتیاط برتنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

Image caption بھارت میں ماؤ نواز باغی حکومت کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔

پولیس اہل کاروں کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی ان علاقوں میں جوانوں کی نقل و حرکت سے قبل 'روڈ اوپننگ پارٹی' کو تعینات کیا جاتا ہے تاکہ بارودی سرنگوں کا پتہ لگایا جا سکے۔

بہر حال پولیس عہدہ دار نے یہ وضاحت کی ہے کہ ابھی تک اس بات کا علم نہیں ہو سکا ہے کہ اس بس کی نقل وحرکت سے پہلے روڈ اوپننگ پارٹی کو اس کام کے لیے تعینات کیا گیا تھا کہ نہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل وجے کمار ان دنوں گڑھ چرولی کے دورے پر ہیں اور ضلع میں ان کی موجودگی کے دوران اس حادثے کا رونما ہونا کافی معنی خیز ہے ہر چند کہ وہ جائے حادثہ پر نہیں تھے۔

پولیس عہدیدار کا کہنا ہے کہ مرنے والے پولیس جوانوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ کئي زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ماؤ نواز باغی اس علاقے کے ساتھ ساتھ کئی دوسری بھارتی ریاستوں میں بھی سرگرم ہیں۔ یہ حملہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران بھارتی پولیس پر ہونے والا سب سے شدید حملہ تھا۔

ماؤ باغیوں نے دو ہفتے قبل ریاست اڑیسہ میں دو اطالوی باشندوں کو اغوا کیا تھا جن میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں