برکس سربراہ اجلاس جمعرات سے دلّی میں

برکس ممالک کے وزیر تجارت تصویر کے کاپی رائٹ PBI
Image caption ممالک کے چوتھے سربراہ اجلاس سے قبل ان ممالک کے وزیر تجارت کی ملاقات

’برکس‘ ممالک کا چوتھا سربراہ اجلاس انتیس مئی کو بھارت کے دارالحکومت دلی میں ہونے والا ہے۔

اس بارے میں بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس تنظیم کو اس کے اندرونی نظریاتی اختلافات اور متضاد سیاسی مفادات عالمی سطح پر ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھرنے سے روک سکتے ہیں۔

برکس ممالک میں بھارت، چین، روس، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں اور اگرچہ وہ دنیا کی تقریباً چالیس فیصد آبادی اور بیس فیصد سے زیادہ اقتصادی پیداوار کا احاطہ کرتے ہیں لیکن مصبرین کے مطابق عالمی سطح پر ان کی مجموعی آواز کا جو وزن ہونا چاہیے، وہ نہیں ہے۔

چین کے خلاف تبتیوں کا احتجاج: تصاویر

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں تجزیہ نگار والٹر لیڈوگ نے سربراہی اجلاس سے قبل ایک کالم میں لکھا ہے کہ برکس ممالک کی تنظیم کو مغربی دنیا کی قیادت والے بین الاقوامی اقتصادی اور سیاسی نظام کے ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن ’ان کے اندر بنیادی سطح پر (نظریاتی) ہم آہنگی کی کمی ہے جو انہیں ایک مضبوط طاقت بننے سے روک رہی ہے‘۔

اخبار کا کہنا ہے کہ گزشتہ دہائی میں تیز رفتار اقتصادی ترقی، اور عالمی مالیاتی اداروں میں زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کی خواہش کے علاوہ تنظیم کے پانچوں رکن ممالک میں بہت کم یکسانیت ہے۔

’بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ جمہوری ممالک ہیں لیکن چین اور روس اس پیمانے پر کافی پیچھے ہیں۔۔۔ان ممالک میں معیار زندگی بھی بہت مختلف ہے، روسی لوگ چینی عوام سے دوگنا کماتے ہیں اورچینی بھارتیوں سے۔ سیاسی اعتبار سے چین، بھارت اور برازیل کو ابھرتی ہوئی طاقتوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے جبکہ روس ایک عالمی طاقت کا مرتبہ تیزی سے کھو رہا ہے۔‘

برکس ممالک کے اختلافات گزشتہ کچھ عرصے میں کئی مرتبہ منظر عام پر آئے ہیں اور ان کے درمیان ’سٹراٹیجک مقابلہ آرائی‘ رہتی ہے۔

عالمی سطح پر بھارت، روس اور برازیل ایک ایسا سیاسی نظام دیکھنا چاہتے ہیں جس میں وہ کلیدی کردار ادا کر سکیں لیکن اس کے برعکس چین ایک ایسے نظام کے حق میں ہے جس میں وہ امریکہ کا متوازی ہو۔

حال ہی میں وکی لیکس کے جاری کردہ سفارتی مراسلوں سے اشارہ ملتا ہے کہ چین برازیل اور بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت سےدور رکھنا چاہتا ہے۔

دیگر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ برکس ممالک کی تنظیم ترقی یافتہ ممالک کے ادارے جی سیون کو ٹکر دے سکتی ہے اور اپنے پہلے تین سربراہی اجلاسوں میں اس نے اس سمت میں تھوڑی پیش رفت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ pib
Image caption چینی صدر ہو جن تاؤ برکس ممالک سربراہ کانفرنس کے لیے دلّی آۓ۔

بی بی سی ہندی کے ایڈیٹر امت بروا کا کہنا ہے کہ عالمی براداری کافی دلچسپی سے یہ دیکھےگی کہ برکس ممالک کے سربراہان اہم عالمی اقتصادی مسائل پر کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔

’مثال کے طور پر ایک تجویز یہ ہے کہ پانچوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک ترقیاتی بینک یا سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا جائے۔‘

لیکن چین اور بھارت کے درمیان طویل مدتی سرحدی تنازعہ بھی کسی ٹھوس پیش رفت کی راہ میں اڑچن بن سکتا ہے۔

گزشتہ برس لیبیا میں فوجی مداخلت کے سوال پر بھی برکس ممالک کوئی واضح موقف اختیار نہیں کرسکے تھے اور اب شام کی صورتحال پر بھی ان کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔

روس اور چین نے سلامتی کونسل میں شام کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کی مخالفت کی جبکہ بھارت اور جنوبی افریقہ اس کے حق میں تھے۔

تاہم بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ سیاست سے زیادہ برکس ممالک نے اقتصادی شعبے میں پیش رفت کی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا خیال ہے کہ دو ہزار پندر سے پہلے برکس ممالک کی قومی مجموعی پیداوار یورو زون کو پیچھے چھوڑ دے گی۔

برکس سربراہ اجلاس میں وزیر اعظم من موہن سنگھ کے علاوہ برازیل کی صدر ڈلما روسیف، روس کے صدر ڈمتری میدویدیف، چین کے صدر ہو جنتاؤ اور جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما شرکت کریں گے اور مذاکرات میں تجارت کے لیے مقامی کرنسیوں کے استعمال کی تجویز بھی زیر غور آسکتی ہے۔

اسی بارے میں