بھارت میں فوج اور حکومت میں کشیدگی کیوں

جنرل وی کے سنگھ
Image caption جنرل وی کے سنگھ جلد ہی ریٹائر ہونے والے ہیں

بھارت میں حکمراں کانگریس پارٹی کی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت کے درمیان گزشتہ کئی مہینوں سے حکومت اور فوج کے رشتے دھیرے دھیرے بگڑتے نظر آرہے ہیں اور ان رشتوں کو حال ہی میں ایک بڑا جھٹکا لگا ہے۔

یہ جھٹکا تب لگا جب ایک انگریزی اخبار نے یہ خبر شائع کری کہ جنوری میں فوج کے دو دستے حکومت کو پیشگي اطلاع دیے بغیر دلی کی طرف آرہے تھے اور اس اقدام سے حکومت پریشان ہوگئی تھی۔ اس رپورٹ سے اس طرح کا اشارہ دیا گیا تھا کہ حکومت سے ناراض فوجی جنرل نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔

انڈین ایکسپریس نامی اخبار نے بدھ کے روز جو رپورٹ شائع کی تھی اس کے مطابق فوج کی اس حرکت سے حکومت اٹھارہ گھنٹے پریشانی میں رہی۔

حکومت اور فوجی جنرل وی کے سنگھ کے درمیان فوجی جنرل کی تاریخ پیدائش کو لے کر تنازعہ پیدا ہوا تھا۔

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنے صفحہ اوّل پر جو مضمون شائع کیا تھا اس کے مطابق جس روز فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے اپنی تاریخ پیدائش سے متعلق مقدمے کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی اسی رات کا یہ واقعہ ہے۔

اخبار کی تحریر سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ حکومت اس فکر میں تھی کہ کہیں فوج حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش میں تو نہیں ہے اور وہ اس نقل و حرکت سے پریشان بھی تھی۔

فوجی جنرل اور حکومت کے درمیان گزشتہ کچھ مہینوں سے جاری ناراضگی نے فوجی ہیڈکوارٹر اور وزارت دفاع کے درمیان رشتے تلخ کردیئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیر دفاع اے کے اینٹنی نے انڈین ایکسپریس میں شائع ہوئی خبر کو بے بنیاد بتایا تھا

جنرل سنگھ پہلے فوجی سربراہ ہیں جو کسی مسئلے پر حکومت کو عدالت لے گئے ہیں۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ عدالت کے اس اشارے کے بعد کہ وہ انکے حق میں فیصلہ نہیں سنائے گی جنرل سنگھ نے اپنا کیس واپس لے لیا تھا۔ لیکن اگر عدالت انکے حق میں فیصلہ سناتی تو وہ مارچ دو ہزار تیرہ میں ریٹائر ہوتے لیکن اب وہ آئندہ ماہ ریٹائر ہوجائیں گے۔

انڈین ایکسپریس اخبار کے مطابق فوجی نقل و حرکت کی سی بی آئی سے اطلاع ملنے کے بعد گھبرائی ہوئی حکومت نے فوجی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ایک’ٹیرر الرٹ‘ کا اعلان کیا تاکہ راستوں پرگاڑیوں کی حرکت کم ہو جائے اور پھر اس کے بعد ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن ( ڈی جی ایم او) نے ان فوجی دستوں کو واپس جانے کے احکامات جاری کیے۔

اس خبر سے متعلق جب وزیر اعظم کے دفتر سے رد عمل جاننے کی کوشش کی تو دفتر نے کہا کہ ’یہ بے بنیاد ہے اور فوج پہلے ہی پورے معاملے کو مسترد کر چکی ہے۔‘

بدھ کے روز ایک نیوز کانفرنس میں جب وزیر دفاع اے کے اینٹنی سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس خبر کو بے بنیاد بتایا۔

ان کا کہنا تھا’یہ پوری طرح سے بے بنیاد ہے، فوج محب وطن ہے اور وہ ملک کی جمہوریت کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گي۔ ہمیں فوج، فضائیہ اور بحریہ سب پر فخر ہے۔‘

اس کے علاوہ جنرل وی کے سنگھ نے ان خبروں کو ’بالکل بے وقوفی‘ کی خبر قرار دیا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ یہ ایک معمول کی مشق تھی جس کے لیے حکومت کو پہلے سے خبردار کرنا ضروری نہیں تھا۔

انکا کہنا تھا کہ اس مشق کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کیا فوج ضرورت پڑنے پر کہرے کی حالت میں نقل و حرکت کرسکتی ہے یا نہیں۔

انکا مزید کہنا تھا ’بعض افراد حکومت اور فوج پر کیچڑ اچھالنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔‘

حالانکہ انڈین ایکسپریس اپنی خبر پر برقرار ہے اور اس کا کہنا ہے اخبار نے ’دو فوجی یونٹوں کی نقل و حرکت کے بارے میں سوچ سمجھ کر پیش کی ہے۔‘

انڈین ایکسپریس کی اس خبر کے بعد پورے ملک میں ہل چل مچ گئی اور ٹی وی چینل اور اخبارات میں سیاستدان، فوجی اہلکار، اور ماہرین بحث کرتے نظر آئے۔

فوج کے سابق برگیڈئیر اور دلی میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل سکیورٹی کے جوائنٹ سیکریٹری ارن سہگل کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ کچھ دنوں سے فوجی جنرلوں کے بارے میں عام تاثر یہ کہ وہ پاکستان کی طرح اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد مستقبل کے فوجی جنرلوں کو چھوٹی چھوٹی بات کے لیے حکومت کو خبردار کرنا ہوگا۔ اس سے فوج کی لڑنے کی صلاحیت متاثر ہوگی جو کہ فوج میں نئے اور معیاری اسلحہ کی کمی سے پہلے ہی متاثر ہے۔ اس کے بارے میں جنرل سنگھ نے وزیراعظم کو لکھے گئے اس خط میں خبردار کیا تھا جو حال ہی میں ایک اخبار کو لیک کردیا گیا تھا۔

بھارت میں پاکستان اور چین کے برعکس فوج کی حکومت ، ملک کی انتظامیہ اور سکیورٹی کی پالیسی کے نظام میں کوئی مداخلت نہیں ہوتی ہے۔

اس کے بارے میں ریٹائرڈ جنرل شیرو تھپلیال کا کہنا ہے کہ ’بھارت جیسے ملک میں میں فوج کی مداخلت کئی وجوہات سے نہیں ہوسکتی ہے۔ ان میں جمہوریت کا نظام سب سے اہم ہے۔ یہاں جمہوریت کی جڑیں گہریں ہیں۔‘

حالانکہ بھارت کے مقبول ترین مرحوم دفاعی ماہر کے سبھرامنیم نے وارننگ دی تھی کہ حکومت اور سیاستدانوں اور اعلیٰ سرکاری افسروں کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں کہ بھارت کو سکیورٹی کے کن مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے قائدین، سیاسی طبقہ، اعلیٰ افسران، بزنس کلاس، اور دانشوروں کو اس اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ ملک کو سکیورٹی کے کن مسائل کا سامنا ہے۔‘

وہیں سابق لیفٹنٹ جنرل پی کے کاٹوش کا کہنا ہے کہ ’آزادی کے پینسٹھ برس کے بعد حکومت ایک کے بعد ایک بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ تیار رہی ہے۔‘ نتیجہ یہ کہ عوام میں فوجیوں کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ زیادہ زیادہ نظم و ضبط والے کانسٹبل ہیں۔

اسی بارے میں