گجرات فسادات کیس، تئیس افراد کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کی تاریخ میں اس طرح کی بہت کم مثالیں ہیں جب فسادات میں ہجوم کے اجتماعی تشدد کے معاملات میں اتنی بڑی تعداد میں قصورواروں کو سزائیں دی گئی ہوں۔

بھارتی ریاست گجرات کی ایک خصوصی عدالت نے 2002 کے فسادات کے دوران ضلع آنند کے اوڈ گاؤں میں نو خواتین اور نو بچوں سمیت 23 افراد کو جلا کر ہلاک کرنے کے جرم میں تئیس افراد کو قصوروار قرار دیا ہے۔

عدالت نے اس معاملے میں دیگر تئیس ملزمان کو ناکافی ثبوتوں کے سبب الزامات سے بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ گودھرا ٹرین کے بہیمانہ واقعہ اور سردار پورہ قتل عام کے واقعے کے بعد تیسرا کیس ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں قصوروار پائے گئے ہیں۔

عدالت نے قتل عام کے اس کیس میں سازش کے پہلو کو بھی تسلیم کیا ہے۔ قصوروار پائے گئے سب ہی تئیس افراد کی سزاؤں کا تعین بارہ اپریل کو کیا جائے گا۔

دلی سے ہمارے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ جن دفعات کے تحت ملزموں کو قصوروار پایا گیا ہے ان کے تحت انہیں کم از کم سزا عمر قید کی ہو گی۔ متاثرین کے وکلا نےعدالت سے درخواست کی ہے جرم کی سنگینی کے پیش نظرمجرموں کو سزائے موت دی جائے۔

اوڈ گاؤن کے پیراولی بھگول قتل عام کے نام سے مشہور یہ واقعہ یکم مارچ 2000 کو رونما ہوا تھا۔ گودھرا ٹرین کے واقعے کے بعد کشیدگی کے دوران تیس سے زیادہ مسلمانوں نے ایک دو منزلہ مکان میں پناہ لے رکھی تھی۔ ہندوؤوں کے ایک بڑے ہجوم نے اس مکان کو گھیرے میں لے لیا تھا اور باہر سے دروازے پر تالہ لگا کر پٹرول اور کیروسین سے پورے مکان میں آگ لگا دی تھی۔

اس واقعے میں نو خواتینں نو بچے اور پانچ مرد مارے گئے تھے۔ تاہم کئی افراد نے مکان سے کود کر جان بچائی تھی جو بعد میں اس واقعے کے چشم دید کواہ بنے۔

یہ واقعہ گجرات فسادات کے ان نو اہم واقعات مین شامل ہے جن کی سریم کورٹ نے ایک خصوصی ٹیم کے ذریعے دو بارہ تفتیش کرائی ہے۔ ان مقدمات کی سماعت ایک خصوصی عدالت کر رہی ہے اور سپریم کورٹ ان کی نگرانی کر رہی ہے۔

بھارت کی تاریخ میں اس طرح کی بہت کم مثالیں ہیں جب فسادات میں ہجوم کے اجتماعی تشدد کے معاملات میں اتنی بڑی تعداد میں قصورواروں کو سزائیں دی گئی ہوں۔

گجرات پولیس کے سابق انٹیلیجنس انچارج آر بی شری کمار نے عدالت کےفیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا ’فسادات کے پیچھے جو اصل دماغ تھے، جنہوں نے اسے منظم کیا تھا اور جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے، جب تک انہین قانون کی گرفت میں نہیں لیا جاتا تب تک اس طرح کے واقعات کو روکنا مشکل ہو گا۔‘

گجرات متاثرین کی مدد گار اور حقوق انسانی کی کارکن تیستا سیتلواڈ نے اپنے رد عمل میں کہا کہ وہ متاثرین اور عینی شاہدوں کی ہمت کی ستائش کرتی ہیں کہ وہ تمام دھمکیوں اور خطرات کے باوجود انصاف کے حصول کے لیے ڈٹے رہے ۔ ’اگر سپریم کورٹ کے حکم سے عینی شاہدوں کو تحفظ نہ فراہم کیا گیا ہوتا تو یہ فیصلہ آنا ممکن نہ ہوتا۔‘

عدالت قصورواروں کی سزاؤں کا فیصلہ آئندہ جمعرات کو سناۓ گی۔گجرات فسادات کے کئی اہم معاملے اب بھی ذیر سماعت ہیں جن میں نرڈیا پاٹیہ اور گلبرگ سوسائٹی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ یہ مقدمات بھی عنقریب مکمل ہونے والے ہیں۔

اسی بارے میں