حیدرآباد: فرقہ وارانہ کشیدگی، کرفیو جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حیدرآباد کے پرانے شہر میں دفعہ چوالیس نافذ ہے۔

بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد میں فرقہ وارانہ فسادات کے لیے حساس علاقوں میں دوسرے روز بھی غیر معینہ مدت کا کرفیو جاری ہے۔

شہر میں مدنّا پیٹ اور سعیدآباد کے علاقوں میں گزشتہ روز مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان جھڑپوں کے بعد کرفیو نافذ کیا گيا تھا۔

جھڑپوں میں تقریباً ایک درجن افراد زخمی ہوئے تھے جنہیں شہر کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گيا ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس منیش کمار سنہا نے بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا ہے کہ ’حالات پوری طرح پرامن ہیں اور رات میں پرانے شہر کے حساس علاقوں میں سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ملی‘۔

اطلاعات کے مطابق کرماگڑا میں ایک عبادت کرنے کی جگہ پرگوشت کے ٹکڑے پائے جانے کے بعد دو برادریوں کے درمیان پتھر بازی شروع ہوئی تھی اور بعد میں جھڑپیں ہوئیں۔

اسی پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ نے کرفیو نافذ کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد کرفیو میں نرمی کرنے یا پھر ہٹانے کا فیصلہ کیا جائیگا۔

اس دوران فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کے الزام میں پندرہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گيا ہے۔ پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے پرانے شہر سے درجنوں افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

اس دوران پولیس نے امتحانات کے پیش نظر سکول کھولنے کی اجازت دی ہے۔

پولیس نے شہر کے پرانے علاقوں میں دفعہ ایک سو چوالیس کا نفاذ کیا ہے جس کے تحت بھیڑ جمع نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی جلوس کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں