’گولہ بارود کی کمی کی خبر درست نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اینٹنی کے مطابق گولہ بارود کی کمی خبر یں بے بنیاد ہیں

بھارت کے وزیر دفاع اے کے اینٹنی نے کہا ہے کہ فوج کے ٹینکوں کے لیے گولہ بارود کی قلت سے متعلق خبریں غلط ہیں اور یہ کہ جنگ کی صورت میں فوج کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا ’یہ سب افواہیں ہیں۔ میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ ملک پوری طرح تیار ہے۔ کچھ کمیاں ہمیشہ رہیں گی جنہیں دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہم سو فیصد ضروریات پوری کی جانے کی توقع نہیں کرسکتے۔‘

اے کے اینٹنی فضائیہ کے کمانڈروں کے دو روزہ اجلاس کے دوران نامہ نگاروں سے بات کر رہے تھے۔

اس سے پہلے ٹائمز آف انڈیا نے دفاعی امور سے متعلق پارلیمان کی مجلس قائمہ کے سامنے مسلح افواج کے اعلیٰ افسران کے بیانات کے حوالے سے کہا تھا کہ فوج کو اپنے ٹینکوں کے لیے کچھ اقسام کے گولہ بارود کی قلت کا سامنا ہے اور اس کے پاس صرف چار دن کا سٹاک موجود ہے۔ کمیٹی کا اجلاس پیر کو ہوا تھا۔

اخبار نے یہ رپورٹ نامعلوم ذرائع کے حوالے سے شائع کی ہے جس کے مطابق فوج کے نائب سربراہ لیفٹننٹ جنرل ایس کے سنگھ نےکمیٹی سے کہا کہ گولہ بارود کی کمی ایک اسرائیلی کمپنی کو بلیک لسٹ کیے جانے کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن ’زیادہ تشویش کی بات نہیں ہے کیونکہ دوسرے ہتھیاروں کے لیے وافر مقدار میں سٹاک موجود ہے‘۔

لیکن مسٹر اینٹنی نے کہا کہ یہ محض ’افواہیں‘ ہیں اور اگرچہ کچھ ’کمیاں‘ ہمشہ رہیں گی لیکن بھارتی فوج ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ مضبوط ہے۔

اخبار کے مطابق جنرل سنگھ نے کمیٹی کوبتایا کہ فوج کی ضروریات روس سے پوری کی جارہی ہیں اور خریداری کے عمل میں تیزی لائی جارہی ہے۔

اس سے قبل مارچ میں فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے بھی وزیر اعظم کو تحریر ایک خط میں گولہ بارود کی قلت کا ذکر کیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ فضائی حملوں کے خلاف بری فوج کا دفاعی نظام فرسودہ ہو چکا ہے اور فوج کو اسلحہ کی کمی کا سامنا ہے جس سے ملک کی سلامتی کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

اسی پس منظر میں مجلس قائمہ نے بری، فضائی اور بحری فوج کے سربراہوں کو بھی طلب کیا ہے تاکہ دفاعی تیاریوں کے بارے میں ان کا موقف معلوم کیا جاسکے۔

بھارتی فضائیہ نے گزشتہ پانچ برسوں میں جنگی طیاروں سمیت ایک لاکھ گیارہ ہزار کروڑ روپے کا فوجی ساز سو سامان خریدا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں بھارت اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں سب سے آگے تھا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق مجلس قائمہ کے سامنے بیان دیتے ہوئے فضائیہ کے نائب سربراہ ائر مارشل کشن نوہوار نے یہ بھی کہا کہ بھارت اور چین کی فوجی صلاحیتوں میں فرق بڑھتا جارہا ہے کیونکہ چین تیزی سے اپنی فوج میں توسیع کررہا ہے۔

بھارت میں فوجی ساز وسامان کے سودوں میں بدعنوانی کے الزامات اکثر عائد کیے جاتے ہیں۔ مارچ میں خود فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا تھا کہ ایک رٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل نے انہیں ٹرکوں کی خرید کے ایک سودے کی منظوری کے عوض چودہ کروڑ روپے دینے کی پیش کش کی تھی۔

اسی بارے میں