ماؤنوازوں کے خلاف کام نہ کرنےکی دھمکی

 اطالوی شہری
Image caption اطالوی شہری پولو ماؤنوازوں کے قبضے میں ہیں

بھارتی ریاست اڑيسہ میں یرغمال بنائےگئے ایک اطالوی شہری اور رکن اسمبلی کی رہائي کے لیے ماؤنواز باغیوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے جو وقت مقرر کیا تھا اس کی معیاد آج ختم ہورہی ہے۔

گزشتہ کئي ہفتے سے ریاستی اسبملی کے ایک رکن جھینا ہکاکا اور ایک اطالوی سیاح نکسلیوں کے قبضے میں ہیں۔

اس دوران ریاست میں پولیس کا کہنا ہے کہ اگر ماؤنواز باغیوں کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے سخت گیر قسم کے ماؤنوازوں کو جیل سے رہا کیا گیا تو پھر وہ ماؤنوازوں سے متاثرہ علاقے میں کام کرنا بند کر دیں گے۔

اس سے قبل حکومت نے ماؤنوازوں کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے تیئس افراد کو رہا کرنے کی بات کہی تھی۔ لیکن حکومت کے اس اعلان کے بعد ماؤنوازوں نے پانچ مزید افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

جن پانچ افراد کو رہا کرنے کا نیا مطالبہ کیا گيا ہے اس میں باغیوں کے وہ مشہور لیڈر شامل ہیں جنہیں بڑی مشکل سےگرفتار کر کے جیل میں قید کیا گيا تھا اور پولیس ان کی رہائی کی سخت مخالف ہے۔

پولیس ان کی رہائی کی مخالفت کر رہی ہے اور کہا ہے کہ اگر ان سخت گیر ماؤنوازوں کو چھوڑا گيا تو پھر نکسل مخالف آپریشن میں پولیس حصہ نہیں لے گی۔

Image caption جھینا ہکاکا کا تعلق حکمراں جماعت بیجو جنتادل سے ہے

ماؤنوازوں کے ایک گروپ نے کئی روز قبل دو اطالوی سیاحوں کو اغوا کر لیا تھا اور پھر بعد میں ایک دوسرے گروپ نے ریاستی اسمبلی کے ایک رکن جھیناہکاکا کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اس میں سے ایک اطالوی سیاح کو رہا کر دیا گيا تھا لیکن دوسرے سیاح پولو بوسیکیو کی رہائي کے لیے ماؤنوازوں نے کئی شرائط رکھی تھیں جس کے لیے کئی دنوں سے مذاکرات جاری ہیں۔

ماؤ نواز باغیوں نے چودہ مارچ کوحکمراں جماعت بیجو جنتا دل کے رکن اسبملی جھینا ہکاکا کو دارالحکومت بھبنیشور سے تقریباً چھ سو کلومیٹر دور تایا پوٹ کے گھنے جنگلات سے اغوا کیا تھا اور اس کارروائی میں تقریباً سو باغیوں نے حصہ لیا تھا۔

اڑیسہ میں ماؤ نواز باغیوں نےحکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ علاقے میں ان کے خلاف آپریشن بند کیا جائے اور حکومت ان کے بعض ساتھیوں کو رہا کرے۔

اسی بارے میں