اڑیسہ، یرغمال بنائےگئے اطالوی سیاح کی رہا ئی

 اطالوی شہری
Image caption اطالوی شہری پولو انتیس روز بعد رہا ہوئے ہیں

بھارت کی ریاست اڑیسہ میں ماؤنواز باغیوں نے یرغمال بنائےگئے اطالوی شہری پاؤلو بوسیسکو کو انیس روز کے بعد جمعرات کو رہا کر دیا ہے لیکن رکن اسمبلی جھینا ہکاکا ابھی بھی ماؤنوازوں کی قید میں ہیں۔

ماؤنوازوں نے جنگل میں اس معاملے کے اہم ثالث ڈنڈ پانی موہنتی کو بعض صحافیوں کی موجودگی میں بوسیسکو کو حوالے کیا۔

اطالوی شہری کو مسٹر موہنتی اور حکومت کی طرف ثالثی کرنے والے بی ڈی شرما کے ساتھ ریاست کے دارالحکومت بھبنیشور لایا گیا ہے۔

ماؤنواز باغیوں کے ایک گروہ نے چودہ مارچ کو پاؤلو کے ساتھ ایک دوسرے اطالوی سیاح کو اغوا کر لیا تھا۔ بعد میں اس میں سے ایک اطالوی سیاح کو رہا کر دیا گيا تھا لیکن دوسرے سیاح پولو بوسیسکو کی رہائي کے لیے ماؤنوازوں نے کئی شرائط رکھی تھیں جس کے لیے کئی دنوں سے مذاکرات جاری تھے۔

اطالوی سیاحوں کو یرغمال بنانے کے چند روز بعد ہی ماؤ نواز باغیوں نے حکمراں جماعت بیجو جنتا دل کے ایک رکن اسبملی جھینا ہکاکا کو اغوا کر لیا تھا۔

انہیں دارالحکومت بھبنیشور سے تقریباً چھ سو کلومیٹر دور تایا پوٹ کے گھنے جنگلات سے اغوا کیا تھا اور اس کارروائی میں تقریباً سو باغیوں نے حصہ لیا تھا۔ انہیں ابھی رہا نہیں کیا گيا ہے اور ان کی رہائي کے لیے بہت سے مطالبات رکھے گئے ہیں۔

اس سے قبل ریاست کی حکومت نے رکن اسمبلی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تئی‎س افراد کو جیل سے رہا کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک ماؤنوازوں کی طرف سے تشدد کی کارروائی نہ کی جائے تب تک حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گي۔

ماؤنوازوں نے ان افراد کی رہائی کے لیے تیرہ اہم مطالبات پیش کیے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے ان میں سے بیشتر کو تسلیم کرلیا ہے۔

اڑیسہ میں ماؤ نواز باغیوں نےحکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ علاقے میں ان کے خلاف آپریشن بند کیا جائے اور حکومت ان کے بعض ساتھیوں کو رہا کرے۔

اسی بارے میں