’بھارت پاکستان کو سرمایہ کاری کی اجازت دے گا‘

بھارت پاکستان وزراء تجارت تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے حال میں کئی کوششیں سامنے آئی ہیں۔

بھارت نے کہا ہے کہ وہ جلدی ہی پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس فیصلے کے عمل میں آنے سے پاکستانی صنعتیں اور کمپنیاں بھارت میں کاروبار کرسکیں گی۔

بھارت کے وزیر تجارت آنند شرما نے جمعہ کو اپنے پاکستانی ہم منصب مخدوم امین فہیم سے ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا۔ مخدوم امین فہیم دونوں ملکوں کےدرمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑے وفد کے ہمراہ دلی آئے ہوئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق آنند شرما نے کہا کہ ’باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے اصولی طور پر یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی جائے اور جلدی ہی اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے بنکوں کو بھی سرحد پار اپنی شاخیں کھولنے کی اجازت دینے کی تجویز پر بھی بات چیت جاری ہے اور ریزرو بینک آف انڈیا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان بھی اس کے حق میں ہیں۔

مخدوم امین فہیم نے کہا کہ بینکوں کو ایک دوسرے کے ملک میں کام کرنے کی اجازت دینے پر بھی دونوں ممالک میں اصولی طور پر اتفاق ہے اور بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں گزشتہ کچھ عرصے میں کافی بہتری آئی ہے اور پاکستان نے بھارت کو انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ دیا ہے جس سے باہمی تجارت کے حجم میں زبردست اضافہ ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت پاک تجارت کے لیے واگھ سرحد پر آسانیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ جمعہ کو واہگہ اٹاری سرحد پر ایک نئی چیک پوسٹ کا بھی افتتاح کیا گیا ہے جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان زمینی راستے سے ہونے والی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔

دونوں ملک صنعت کاروں اور تاجروں کے سفر کو آسان بنانے کے لیے ویزا کی شرطوں میں بھی جلدی ہی نرمی کا اعلان کرنے والے ہیں۔

گزشتہ اتوار کو پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھی نجی دورے پر بھارت آئے تھے اور ان کی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔

دلی میں تقریباً سو کمپنیاں ’لائف سٹائل پاکستان‘ کے نام سے ایک نمائش میں بھی حصہ لے رہی ہیں جس کا مقصد پاکستانی مصنوعات کو بھارتی بازار میں متعارف کرانا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دیے جانے کے بعد اب چھ ہزار اشیا کی درآمد کا راستہ کھل گیا ہے۔

اسی بارے میں