بھارت، سود کی شرح میں کمی کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  منگل 17 اپريل 2012 ,‭ 10:07 GMT 15:07 PST

ریزرو بینک کو امید ہے کہ اقتصادی ترقی کی رفتار پھر سے بحال ہوجائیگي

ریزرو بینک انڈیا (آر بی آئی) نے تین سال میں پہلی مرتبہ سود کی شرح میں کٹوتی کا اعلان کیا ہے تاکہ ملک میں تیز رفتار اقتصادی ترقی کو بحال کیا جاسکے۔

اس کٹوتی کے بعد اب بینک آر بی آئی سے آٹھ فیصد کی شرح پر رقم حاصل کرسکیں گے جس سے گاڑیوں اور مکانوں کے قرضے سستے ہونے کی امید ہے۔

ملک میں بے قابو مہنگائی سے پریشان ہوکر ریزرو بینک نے مارچ دو ہزار دس کے بعد سے تیرہ مرتبہ سود کی شرح میں اضافہ کیا تھا لیکن افراطِ زر کو چار سے پانچ فیصد کے درمیان لانے کی کوششیں ناکام رہیں اور اقتصادی ترقی کی رفتار خطرناک حد تک سست ہوگئی تھی۔

شرح میں کٹوتی کا اعلان کرتے ہوئے آر بی آئی کے گورنر ڈی سبا راؤ نے کہا کہ دو ہزار آٹھ کے مالی بحران کے بعد ترقی کے رحجان میں کمی آئی اور اس کی وجہ سے مہنگائی میں بھی کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔ ’سود میں کٹوتی کا مقصد ملک کو نو فیصد ترقی کی رفتار پر واپس لانا ہے جیسا کہ دو ہزار آٹھ کے مالی بحران سے پہلے ہو رہا تھا۔‘

آر بی آئی کا خیال ہے کہ رواں مالی سال میں ترقی کی رفتار سات اعشاریہ تین فیصدر رہے گی۔ تاہم احتیاط کے طور پر کریڈٹ ریزرو ریشو میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے یعنی قرض تو سستے ہوں گے لیکن بینکوں کے پاس سرمائے کی فراوانی نہیں ہوگی تاکہ آر بی آئی کے فیصلے کا مہنگائی پر الٹا اثر نہ پڑے۔

"سود میں کٹوتی کا مقصد ملک کو نو فیصد ترقی کی رفتار پر واپس لانا ہے جیسا کہ دو ہزار آٹھ کے مالی بحران سے پہلے ہو رہا تھا۔"

گورنر سبّا راؤ

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں مہنگائی میں اضافے کی شرح سات فیصد سے کچھ کم تھی۔ تخمینوں کے مطابق مالی سال دو ہزار گیارہ - بارہ میں ترقی کی رفتار چھ اعشاریہ نو فیصد رہی۔ خود حکومت کا خیال ہے کہ فی الحال افراطِ زر اسی سطح کے ارد گرد گردش کرے گی۔

سود کی اونچی شرحوں سے صنعتی پیداوار پر منفی اثر پڑ رہا تھا۔ مارچ میں آر بی آئی نے مالی پالیسی پر نظر ثانی کے بعد یہ اشارہ دیا تھا کہ اب سود کی شرحوں میں مزید اضافہ نہیں کیا جائےگا جبکہ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے آر بی آئی کے ساتھ مل کر خاطر خواہ اقدامات کرے گی۔

لیکن سبا راؤ کے مطابق سود کی شرحوں میں فوری طور پر مزید کمی کا امکان نہیں ہے کیونکہ مہنگائی کی صورتحال پر تشویش اپنی جگہ موجود ہے جبکہ عالمی بازاروں میں تیل کی قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے سبسڈی کا بل بڑھتا جارہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔