’سی پی ایم ارکان کا سماجی بائیکاٹ کریں‘

Image caption وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی پر اس طرح کے اقدامات سے نکتہ چینی ہو رہی ہے

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے اپنے ارکان سے اپوزیشن جماعت مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کےارکان کا سماجی بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔

پارٹی کے اس بیان سے دانشور اور عام لوگ خوش نہیں ہیں۔

ریاست مغربی بنگال میں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی پینتیس برس حکومت کرنے کے بعد گزشتہ انتخابات میں ترنمول کانگریس سے ہاری تھی اور تب سے دونوں سیاسی جماعتوں میں کشمکش جاری ہے۔

ریاستی وزیر اور پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما جیوتی ملک نے شمالی چوبیس پرگنہ میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران سماجی بائیکاٹ کی کال دی تھی۔

انہوں نے کہا’سی پی ایم کے کارکنان کے ساتھ ملنا جلنا چھوڑ دیں، اگر چائے کی دکان پر بھی ملیں تو بات چيت سے گریز کریں۔ ہم نے مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارے کارکنان اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد سی پی ایم کے خاندان کے ساتھ شادی نا کرنے پائے۔‘

غور طلب بات یہ ہے کہ جس جلسے میں یہ باتیں کہی گئیں وہاں سی پی ایم کے بہت سے وہ افراد موجود تھے جنہوں نے انتخابات میں ممتا بینرجی کی حمایت کی تھی۔

ممتا بینرجی کی حکومت میں بھی سی پی ایم کے وہ بہت سے سابق ارکان ہیں جو اپنی جماعت چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شامل ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی ترنمول کانگریس سی پی ایم کا بائیکاٹ کرتی رہی ہے لیکن اس طرح کھلے عام اس کا اعلان پہلی بار ہوا۔

چند روز پہلے ہی کی بات ہے کہ کی ریاستی پولیس نے انٹرنیٹ پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف ’توہین آمیز پیغامات‘ پھیلانے کے الزام میں ایک پروفیسر کو گرفتار کیا تھا۔

پروفیسر امبیکیش مہاپاترا ریاست کی جادھوپور یونیورسٹی میں کیمسٹری پڑھاتے ہیں اور پولیس کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے ممتا بینرجی اور ریلوے کے سابق اور موجودہ وزراء کی کچھ تصاویر کے ساتھ ایسے کلمات انٹرنیٹ پر جاری کیے جو توہین آمیز ہیں۔

ان پر مبینہ طور پر حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے بعض کارکنوں نے جمعرات کی شام حملہ بھی کیا تھا۔

ریاست کے دانشوروں، سماج کی سرکردہ شخصیات اور اساتذہ نے حکومت کے اس طرح کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔

بہت سے لوگ فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں