اینیکے زونڈیگ: فوٹو گرافی سے فلاحی کام تک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اینیکے نے جیسے ورِنداون میں قلبی سکون پالیا ہے

اینیکے زونڈیگ ہالینڈ سے تعلق رکھنی والی سپورٹس فوٹوگرافر ہیں جو ٹینس کی کوچنگ سے وابستہ اپنے شوہر کے ساتھ پچھلے کئی برسوں سے دبئی میں رہ رہی ہیں۔

وہ تین سال سے متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ہرسیریز کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کر رہی ہیں اور جب کرکٹ نہ ہو رہی ہو تو وہ کبھی ورلڈ ڈرائیونگ چیمپئن شپ میں نظر آتی ہیں تو کبھی راجر فیڈرر اور ٹائیگر وڈز کے ایک ایک ایکشن پر اپنے کیمرے کے ساتھ نگاہ جمائے بیٹھی رہتی ہیں۔

اینیکے زونڈیگ کی ذات صرف تصویروں کی دنیا سے ہی جڑی ہوئی نہیں ہے بلکہ وہ ایک اور دنیا کے سحر میں بھی مبتلا ہیں ۔یہ دنیا دراصل وہ فلاحی منصوبہ ہے جو دلی اور آگرہ کے درمیان ورِنداون کے چھوٹے سے علاقے میں مخیر حضرات نے قائم کررکھا ہے اور اینیکے زونڈیگ بھی اس کا ایک ہم حصہ ہیں۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق اس فلاحی منصوبے میں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ غریب خاندانوں کو خوراک اور علاج کی سہولتیں فراہم کرنا بھی شامل ہیں۔

کہاں دبئی کی چکاچوند روشنیوں میں سپورٹس فوٹوگرافی اور کہاں مندروں کا شہر ورِنداون ؟

لیکن اینیکے نے جیسے ورِنداون میں قلبی سکون پالیا ہے جہاں سکولوں کے پندرہ سو بچے اور بچیوں کو تعلیم اور کھیل میں مصروف رکھ کروہ اس طرح خوش ہوتی ہیں جیسے کسی بچے کے ہاتھ کھلونا لگ جائے۔

’میری فوٹوگرافی اور یہ فلاحی منصوبہ ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ دراصل میں اپنی تصویروں سے لوگوں کو اس دنیا میں لے جاتی ہوں جس میں غربت و افلاس ہے، تنگ دستی ہے مسائل ہیں لیکن آسمان سے باتیں کرتے ہوئے بلند حوصلے بھی ہیں میرے خیال میں ایک تصویر ہزار لفظوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اکشے کمار مارشل آرٹ پر عبور رکھتے ہیں اور فلموں میں بھی وہ بہت زبردست فائٹ کرتے ہیں

ورِنداون کے سکولوں کے ان بچوں کی اکثریت کرکٹ کی دیوانی ہے۔

بارہ سالہ راج کمار بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ پولیو نے چلنے پھرنے میں مشکل ضرور پیدا کی ہے لیکن وہ پڑھائی کے معاملے میں سنجیدہ اور کرکٹ کے بارے میں بہت پرجوش ہیں۔

’ مجھے کبھی احساس نہیں ہوا کہ میں عام لڑکوں کی طرح تیز نہیں بھاگ سکتا۔میں کرکٹ کھیلتا ہوں اور خوب کھیلتا ہوں۔ میرے والد ٹی وی پر کرکٹ دیکھتے رہے ہیں ۔ مجھے یہ شوق انہیں کو دیکھ کر ہوا اور جب میں نے کرکٹ کھیلنی چاہی تو انہوں نے مجھے بیٹ اور گیند لا کر دی۔‘

جب بھارت نے ورلڈ کپ جیتا تو کیا آپ کو اس کا پتہ تھا ؟

’میں نے اپنے دوستوں سے کہہ رکھا تھا کہ بھارت اس بار ضرور عالمی کپ جیتے گا اس کی وجہ یہ تھی کہ بھارتی ٹیم بہت اچھا کھیل رہی تھی اور ظاہر ہے جب وہ لمحہ آیا تو میں بہت خوش تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

بھارت کے کئی بچوں اور نوجوانوں کی طرح راج کمار بھی سچن تندولکر کے دیوانے ہیں۔

اینیکے زونڈیگ بتاتی ہیں کہ کرکٹ کھیلتے وقت بچوں کا جوش و خروش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اور ایسا بھی ہوا ہے کہ بچے کرکٹ کھیلناچاہتے ہیں، سٹمپس موجود نہیں ہیں تو وہ اس کی جگہ کرسی رکھ کر کھیل شروع کر دیتے ہیں۔

سنیتا آٹھویں جماعت کی طالبہ ہیں جو مارشل آرٹ کے مقابلوں میں کئی انعامات جیت چکی ہیں اور اپنا مستقبل اسپورٹس وومن کے طور پر دیکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ’ پڑھائی اور کھیل دونوں اچھے ہیں اگر پڑھ لکھ گئی تو اچھی نوکری مل جائے گی لیکن مجھے کھیلوں کی دنیا میں اپنا نام بنانا ہے‘۔

سنیتا کی خواہش بھارتی اداکار اکشے کمار سے ملنے کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ’ اکشے کمار مارشل آرٹ پر عبور رکھتے ہیں اور فلموں میں بھی وہ بہت زبردست فائٹ کرتے ہیں میں اگر ان سے ملوں تو مجھے یقین ہے کہ ان سے مجھے مارشل آرٹ کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا‘۔

ورِنداون کے ان بچوں نے تعلیم اور کھیل میں خود کو مصروف رکھ کر اپنے بہتر مستقبل کی راہ اپنارکھی ہے اور اینیکے زونڈیگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سب کچھ راتوں رات تبدیل نہیں ہوسکتا لیکن انہیں یہ اطمینان ضرور ہے کہ یہ پندرہ سو بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور وہ رات کو بھوکے نہیں سوتے۔

اسی بارے میں