نیوز چینل کی بجائے موسیقی سنیں: ممتا بنرجی

ممتا بینرجی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بعض ریاستی چینل حکومت کی شہرت کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں: ممتا بنر جی

ذرائع ابلاغ کی سینسرشپ اور اظہار کی آزادی پر مبینہ حملے کے معاملے میں سبھی حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بننے کے باوجود مغربی بنگال کی وزیرِ اعلی ممتا بینرجی میڈیا کے مسئلے پر روزانہ لوگوں کو نئے مشورے دے رہی ہیں۔

اپنے تازہ بیان میں انہوں نے کہا ہےکہ لوگوں کو ٹی وی چینلوں پر خبریں دیکھنے کی بجائے موسیقی سننا چاہئے۔ ممتا بینرجی نے نے کہا ہے کہ’ لوگوں کو نیوز چینلز پر جھوٹی خبریں دیکھنے کے بجائے موسیقی والے چینل دیکھنے چاہیں۔‘

انہوں نے لوگوں کو ان چینلز کے نام بھی گنائے جن کو نہیں دیکھنا چاہیے اور جن کو دیکھنا چاہیے۔

جمعرات کو ریاست میں منعقد ایک پروگرام کے دوران خطاب کرتے ہوئے ممتا بینرجی نے کہا’کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے دو، تین چینلز ہیں جو آپ کو نہیں دیکھنے چاہیے۔ ان کو دیکھنے کی بجائے موسیقی سنیں۔‘

ممتا بینرجی نے الزام لگایا ہے کہ ایسے چینل ریاستی حکومت کی شہرت کو خراب کرنے کے لیے جھوٹی خبریں نشر کر رہے ہیں.

اسی پروگرام میں ایک بار پھر میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا ’میڈیا کا ایک گروپ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے اپنی پسند کی خبریں نشر کررہا ہے لیکن میں ان خبروں کو غلط ثابت کردوں گی۔‘

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی تنقید انہیں ترقی کے کام کو آگے بڑھانے سے نہیں روک سکتی۔

ممتا بینرجی نے کہا کہ وہ بنگال کا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کی سمت میں مسلسل کوشش کر رہی ہیں لیکن میڈیا کا ایک گروہ اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

وزیر اعلی نے کہا:’میں اپنی طرف انگلی اٹھانے والے ایسے ناقدین کی پرواہ نہیں کرتی۔ میں کسی کی بھی پرواہ نہیں کرتی۔‘

ممتا بینرجی کے اس بیان پر اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما سوریکات مشرا کہتے ہیں:’حکومت نے پہلے یہ طے کیا کہ لوگ سرکاری لائبریریوں میں کیا پڑھیں گے۔اس کے بعد اب یہ طے کر رہی ہے کہ وہ کون سا چینل دیکھیں، کون سا نہیں۔‘

انکا مزید کہنا تھا:’ اب کچھ دنوں میں اگر حکومت یہ بھی طے کرنے لگے کہ لوگ کیا کھائیں اور کیا پہنیں تو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے۔‘

بھارتی پریس کونسل کے صدر مارک ڈے كاٹجو نے كاٹورن تنازعے میں پروفیسر کی گرفتاری کے تنازعے کے بعد کہا تھا کہ ممتا بینرجی کو اور پختہ طریقے سے کام کرنا چاہیے۔

كاٹجو نے کہا تھا کہ ممتا بینرجی کو کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اب وزیر اعلیٰ ہیں، سڑک پر اتر کر تحریک کرنے والی لیڈر نہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دو ہفتے پہلے ممتا بینرجی نے ایک پروفیسر کو ان کے مزاحیہ کارٹون انٹرنیٹ پر شائع کرنے کے الزام میں جیل بھیجوا دیا تھا جنہیں بعد میں رہا کردیاگیا تھا۔ اس واقع کے بعد ممتا بینرجی کی سبھی حلقوں میں تنقید ہوئی تھی۔