ٹیسی تھامس: بھارت کی ’میزائل وومن‘

بھارت کی سائنسدان ٹیسی تھامس
Image caption ٹیسی تھامس کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں صنفی امتیاز نہیں ہے

بھارت کی سائنسدان ٹیسی تھامس ایک مثالی خاتون ہیں جنہوں نے بین البراعظمی بلسٹک میزائل اگنی کے کامیاب تجربے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

میڈیا ٹیسی تھامس کو ’میزائل وومن ‘ کے نام سے مخاطب کرتا ہے جو بھارت کے ڈیفینس ریسرچ اینڈ ڈویلپمینٹ آرگنائیزیشن کی سائنسداں ہیں۔

ٹیسی تھامس نے جمرات کو جوہری ہتھیار لے جانے والے بین البراعظمی بلسٹک میزائل اگنی پانچ کے کامیاب تجربے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

خیال ہے کہ ٹیسی تھامس دنیا میں جوہری اسلحہ لےجانے والے بلسٹک میزائل پر کام کرنے والی چند خواتین میں سے ایک ہیں۔

انچاس سالہ ٹیسی 1988 میں اس ادارے سے وابستہ ہوئی تھیں ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے ادارے میں یا کام کے دوران کبھی بھی عورت ہونے کے ناطے کسی طرح کے تعصب کا سامنا نہیں ہوا۔

ٹیسی تھامس کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں صنفی امتیاز نہیں ہے اگر آپ کا کام اچھا ہے تو آپ کو خود بخود آگے آنے کا موقع ملتا ہے۔

محترمہ تھامس کی پیدائش ریاست کیرالہ کے ایک چھوٹے تاجر کے گھر میں ہوئی۔ ان کا گھر ایک میزائل سٹیشن کے نزدیک تھا اور اور ان کا کہنا ہے کہ اس ماحول میں رہ کر میزائلوں اور راکٹوں کے ساتھ ان کی محبت پروان چڑھی۔

کیرالہ میں سکول اور کالج کی تعلیم ختم کرنے کے بعد بیس سال کی عمر میں وہ گائیڈڈ میزائل ٹیکنالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے پونا شہر چلی گئیں جہاں ان کی ملاقات اپنے مستقبل کے شوہر سروج کمار سے ہوئی جو بھارتی فوج میں کموڈور ہیں۔

محترمہ ٹیسی کا کہنا ہے کہ ان کے والدین نے ان کا نام مدر ٹریسا کے نام پر رکھا تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاوں پر کام کرتے ہوئے انہیں کیسا محسوس ہوتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ جو ہتھیار بنا رہی ہیں وہ دراصل’ امن کے ہتھیار‘ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اپنا کام اور گھر دونوں ایک ساتھ چلانے میں دشواری ہوئی اور کئی مرتبہ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں اور میزائل پروگرام کے ساتھ اپنی محبت کے درمیان پھنس کر رہ جاتی تھیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر اور بیٹے کی حمایت اور ساتھ نے ان کا کام کچھ حد تک آسان کر دیا۔

اسی بارے میں