مبینہ جنسی ویڈیو، کانگریس ترجمان مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption ابھیشیک سنگھوی نے اس ویڈیو کی نشر و اشاعت پر حکمِ امتناعی حاصل کیا ہوا ہے

بھارت میں حکمران اتحاد کی مرکزی جماعت کانگریس کے رہنما ابھیشیک منو سنگھوی نے اپنی مبینہ جنسی ویڈیو سامنے آنے کے بعد جماعت کے ترجمان اور پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا۔

یہ ویڈیو سماجی روابط کی ویب سائٹ پر شائع کی گئی اور اس میں مبینہ طور پر سنگھوی کو ایک خاتون کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں دکھایا گیا ہے۔

ابھیشیک سنگھوی نے جو ایک وکیل بھی ہیں، کہا ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے اور انہوں نے ان اطلاعات کو بھی رد کیا ہے کہ انہوں نے اس خاتون کو جج بنوانے کی پیشکش کی تھی۔

انہوں نے پہلے ہی عدالت سے اس ویڈیو پر میڈیا پر دکھانے یا تقسیم کرنے پر حکمِ امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔

استعفے کے بعد سنگھوی نے کہا کہ ’میں نے استعفیٰ صرف اس لیے دیا کہ اس معاملے کی وجہ سے پارلیمانی کارروائی میں خلل نہ پڑے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی کا معاملہ ’صرف خیالی اور سنسنی پھیلانے کی مذموم کوشش ہے‘۔

بھارت میں پارلیمان کے اجلاس کا آغاز منگل سے ہو رہا ہے اور امکان ہے کہ اس معاملے پر ایوان میں گرماگرمی ہو سکتی ہے۔

بھارت کی حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ ابھیشیک سنگھوی کے استعفے کے معاملے کو پارلیمان میں اٹھائے گی۔

اسی بارے میں