پاک بھارت سرحد کے قریب نئی آئل ریفائنری کا افتتاح

گورو گوبند سنگھ آئل ریفائنری تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ’نئی ریفائنری کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت نوّے لاکھ ٹن سالانہ ہوگی‘

پاک انڈیا سرحد کے قریب انڈیا کے شہر بھٹنڈہ میں نئی آئل ریفائنری بنانے والی کمپنی کے سربراہ نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان کو تیل کی مصنوعات برآمد کرنے کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن کے سربراہ ایس رائے چوھدری نے کہا کہ ’حکومتوں کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔ پاکستان سے ایک وفد آیا تھا لیکن ابھی کچھ طے نہیں ہوا۔‘انہوں نے کہا کہ جو بھی فیصلہ ہو اسے اقتصادی اعتبار سے درست فیصلہ ہونا چاہیے۔

اس موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ انڈیا کے پاس تیل صاف کرنے کی اتنی صلاحیت ہے کہ وہ تیل کی مصنوعات کو برآمد کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ سنیچر کو پاکستان کی سرحد سے ایک سو کلومیٹر دور گورو گوبند سنگھ آیل ریفائنری کے باقاعدہ افتتاح کے لیے بھٹنڈہ آئے تھے۔ رائٹرز کے مطابق یہ ریفائنری ہندوستان متل انرجی کے زیر انتظام ہو گی جو انڈیا کی سرکاری کارپوریشن ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور متل انرجی کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنی تقریر میں کہا کہ نئی ریفائنری کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت نوّے لاکھ ٹن سالانہ ہوگی۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ انڈیا نے تیل صاف کرنے کی صنعت میں بہت ترقی کی ہے اور اس کا مرکز بن گیا ہے۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان متل انرجی کویت اور سعودی عرب سے خام تیل حاصل کرنے کے لیے طویل مدت کے معاہدے پر بات چیت کر رہا ہے۔ انڈیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ریفائنری کی تیاری پر بیس ہزار کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔

اس سے قبل انڈیا کے تیل کے وزیر ایس جے پال ریڈی نے جنوری میں کہا تھا کہ ان کا ملک پاکستان کو تیل کی مصنوعات اور گیس برآمد کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

اسی بارے میں