پتھری بل: کورٹ کے فیصلہ پرکشمیری ناراض

Image caption کشمیر میں آئے دن انکاؤنٹر ہوتے ہیں جس میں بیشتر فرضی کہے جاتے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں فرضی جھڑپوں میں مبینہ طور پر ملوث فوجی اہلکاروں کی پیشی فوجی عدالتوں میں کرنے کی عدالتی اجازت پر کشمیری حلقوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس فیصلے کو کشمیر میں فوجی زیادتیوں کے متاثرین کے لیے دھچکہ قرار دیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ منگل کے روز کشمیر اور آسام میں فرضی جھڑپوں کی شکایات سے متعلق ایک معاملہ کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔

اس فیصلہ میں عدالت عظمٰی نے کہا ہے کشمیر یا آسام میں فرضی جھڑپوں کی شکایات میں ملوث اہلکاوں کے خلاف مقدمہ عدالتیں مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں چلا سکتیں۔ سپریم کورٹ کا مزید کہنا ہے کہ فوجی اہلکاروں کو آرمڈفورسز سپیشل پاورس ایکٹ یا افسپا کے تحت جو خصوصی اختیارات حاصل ہیں وہ لازمی ہیں۔

واضح رہے کہ اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ علیٰحدگی پسند گروپ کئی سال سے کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے ہی کچھ جج صاحبان کے بیانات کی تردید ہے جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث فوجی اہلکاروں کا قانونی مواخذہ شہری عدالتوں میں ہی کیا جانا چاہیے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم مقامی ادارہ کولیشن آف سول سوسائٹیز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے فوج کے قانونی تحفظ کو تسلیم کر کے کشمیریوں کا اعتماد حاصل کرنے کا ایک اور موقع گنوا دیا۔

حریت کانفرنس (گ) کے رہنما سید علی گیلانی نے ایک بیان میں کہا: ’یہاں نافذ کالے قوانین بھارتی فوج کے جرائم کو قانونی تحفظ دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی سسٹم میں کشمیریوں کو انصاف نہیں مل سکتا‘۔

میرواعظ عمرفاروق کی سربراہی والے حریت دھڑے کے رہنما نعیم احمد خان کا کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ ایسا ادارہ ہے جس سے اس ملک کی ایک ارب سے زائد آبادی کو انصاف کی امید ہے۔ وہ کہتے ہیں’اگر یہ ادارہ کشمیر کے معاملے میں ناانصافیوں پر قانونی مہر لگا دے تو یہ پورے بھارت کے لیے ایک اخلاقی دھچکہ ہے‘۔

قابل ذکر ہے کہ بیس مارچ دو ہزار کو جنوبی کشمیر میں سکھوں کی ایک بستی میں نامعلوم افراد نے چھتیس سکھ شہریوں کا قتل عام کیا۔ یہ واقعہ اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہء بھارت سے ایک روز قبل ہوا تھا۔

اس کے بعد پچیس مارچ کو بھارتی فوج نے ایک جھڑپ میں پانچ غیرملکی عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ لوگوں کا الزام تھا کہ وہ پانچوں عام شہری تھے۔

حکومت کی تفتیش سے بھی یہ بات ثابت ہوگئی۔ لیکن حکومت ہند نے کشمیری انتظامیہ کو اس واقعہ میں ملوث فوج کے میجر اجے سکسینا اور ان کے ساتھیوں کے خلاف قانونی مواخذہ کی اجازت نہیں دی۔

اسی بارے میں