چھتیس گڑھ، یرغمال شدہ کلکٹر کی رہائی

الیکس پال مینن
Image caption مینن نے رہائی کے بعد میڈیا سے بات چيت میں ریاستی حکومت کا شکریہ ادا کیا

بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں بارہ روز قبل اغوا ہونے والے سکوما ضلع کے کلکٹر فلیکس پال مینن کو ماؤ نواز باغیوں نے جمعرات کو دوپہر بعد رہا کر دیا ہے۔

علاقے کے سابق کلکٹر بی ڈی شرما اور پروفیسر جی ہرگوپال ان کی رہائی کے لیے مذاکرات کر رہے تھے اور الیکس مینن کو تاڑمٹیلا جنگل میں انہیں کے حوالے کیا گيا۔

اپنی رہائی کے بعد الیکس نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وہ اپنی رہائی کے لیے، مذکرات کار، حکومت، وزیر اعلٰی سمیت ان سب کے شکرگزار ہیں جنہوں نے ان کی رہائی میں مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ وہ پھر سے کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور جہاں بھی حکومت انہیں تعینات کریگي وہاں وہ جائیں گے اور اگر اسی علاقے میں انہیں دوبارہ تعینات کیا گيا تو پھر وہ یہیں کام کریں گے۔

الیکس پال مینن کو اکیس اپریل کو سکوما کے ماجھی پاڑا گاؤں سے اغواء کیا گیا تھا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ رہائی کے بدلے میں ریاستی حکومت نے ماؤنوازوں کی کیا شرائط تسلیم کی ہیں اور کیا نہیں۔

ماؤ باغی اپنے کئی سرکردہ رہنماؤں کی جیل سے رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق حکومت نے یہ کہا ہے کہ جب کلکٹر واپس آجائیں گے تو وہ معاہدے کا باضابطہ اعلان کرےگی۔

اس سے قبل ماؤنواز باغیوں نے ضلع کلکٹر کو تین مئی کوتاڑمیٹلا کے علاقے میں رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاڑمیٹلا وہی علاقہ ہے جہاں پر ماؤ نواز باغیوں نے اپنے مذاکرات کاروں کو الیکس پال مینن کی رہائی سے متعلق بات چیت کے لیے بلایا تھا۔

واضح رہے کہ چھتیس گڑھ کی حکومت اور نکسلیوں کے مذاکرات کاروں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ جن نکسلی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ ہو رہا ہے اس کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلٰی سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

گزشتہ مہینے الیکس پال مینن کو ماجھی پاڑا گاؤں سے اغواء کیا گیا تھا۔ وہ ایک سرکاری پروگرام میں حصہ لینے کے لیے ماجھی پاڑا گاؤں گئے تھے۔اغواء کے مقام پر اس وقت نکسلی کمانڈر رمننا اور بھیما موجود تھے۔

ماؤنواز باغیوں نے اس کارروائی میں الیکس پال مینن کے دونوں سیکورٹی گارڈز ہلاک کر دیے تھے۔

اسی بارے میں