بھارت کو ہندو برادری کی حالت پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مذہب کی تبدیلی اور شادی کے خلاف ہندو والدین نے بھی احتجاج کیا تھا

بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کو اپنے ملک کی اقلیتی ہندو برادری کے تحفظ اور سلامتی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے چاہیں۔

بدھ کے روز بھارتی پارلیمان میں بعض ارکان کی جانب سے پاکستان میں ہندو لڑکیوں کا مذہب تبدیل کر کے ان کے ساتھ شادی کرنے جیسے واقعات پر تشویش ظاہر کی گئی۔

ارکان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر پاکستان کی حکومت سے بات چيت کرے۔

اس پر جواب دیتے ہوئے بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا پاکستان کی حکومت نے ایسے واقعات کا سخت نوٹس لیا ہے اور انہیں امید ہے کہ’ پاکستان اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے اپنے آئینی فرائض کو پورا کرے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ’ہم پاکستان کی حکومت اور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی اقلیتی برادری کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے، ان کی سلامتی، سکیورٹی اور بھلائی کی ضمانت سمیت تمام ممکنہ اقدامات کریں۔‘

سندھ میں ہندو خاندان کی بعض لڑکیوں کی مذہب کی تبدیلی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر کرشنا نے کہا ہے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اس کا نوٹس لیا تھا اور انہوں نے اس کی تفتیش کے احکامات دیے اور قانونی کارروائی کرنے کا کہا تھا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ’پاکستان کے ارکانِ پارلیمان، غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بھی اس مسئلے کو اٹھایا تھا اور مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان میں ہندوؤں کے ساتھ زیادتی کے کئی واقعات کا ذکر کیا اور کہا’ گزشتہ برس نومبر میں تین ہندو ڈاکٹروں کو قتل کر دیا گيا تب بھی صدر پاکستان نے اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے احکامات دیے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہندو برادری کے ساتھ ایسے واقعات ہوئے ہیں لیکن پاکستان کی انتظامیہ اس پر نظر رکھتی ہے اور بھارت کو پوری توقع ہے کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

اسی بارے میں