’اکیس برس میں پہلی خوشخبری ملی ہے‘

Image caption میں وائرولوجي انسٹی ٹیوٹ بنانے میں حکومت کی مدد کر سکتا ہوں:ڈاکٹر چشتی

معمر پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر خلیل چشتی کا کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے عارضی پاکستان جانے کی اجازت انہیں اکیس برس میں ملنے والی پہلی خوشخبری ہے۔

ڈاکٹر چشتی کو ایک مقدمۂ قتل عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور اب کہا ہے کہ وہ پاکستان جا سکتے ہیں تاہم انہیں سزا کے خلاف اپنی اپیل کی سماعت سے قبل بھارت واپس لوٹنا ہوگا۔

اپنے وطن جانے کی اجازت ملنے کے بعد بی بی سی ہندی کے امریش دویدی سے بات کرتے ہوئے خلیل چستی نے کہا کہ ’میں بہت خوش ہوں کہ اکیس برس بعد مجھے ایک خوشخبري سننے کو ملی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں سپریم کورٹ کا بہت شكرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھ سے انسانی ہمدردی کا برتاؤ کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’سب سے پہلے میں یہ خوشی اپنے گھر والوں کے ساتھ بانٹوں گا۔ اردو میں ایک کہاوت ہے ’پہلے خویش بعد درویش‘ یعنی میرے جو خویش یعنی گھر والے ہیں پہلے میں انہیں کے ساتھ اپنی خوشی بانٹوں گا۔

خلیل چشتی نے کہا کہ سنہ انیس سو بانوے سے قبل وہ تقریباً ہر سال اجمیر آتے تھے۔’یہ ریکارڈ ہے کہ میں نے کبھی بھی چھٹیاں کسی دوسری جگہ پر نہیں منائیں‘۔

’ڈاکٹر خلیل کی بی بی سی سے بات چیت سنیے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’میں اپنی چھٹیوں میں ہر سال اپنے والدین سے ملنے کے لیے یہاں آیا کرتا تھا، اس میں ایک آدھ سال کا وقفہ رہ گیا ہو تو یاد نہیں، لیکن میری عمر پاکستان میں کم اور بھارت میں زیادہ گزری ہے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں پاکستان سے لوٹ کر آؤں گا تو یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ راجستھان کی حکومت میرے ساتھ سیاح کی طرح کا برتاؤ کرتی ہے یا مجھ سے کچھ فائدہ بھی اٹھاتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر حکومت مجھ سے کچھ فائدہ اٹھانا چاہے گی تو میں اسے ایک وائرولوجي انسٹی ٹیوٹ کا تحفہ بھی دے سکتا ہوں۔

بھارت میں صرف پونے میں ایسا انسٹی ٹیوٹ ہے اور ڈاکٹر خلیل نے کہا کہ ’اگر راجستھان حکومت خرچ اٹھانے کو تیار ہو تو وہ مجھ سے اس سلسلے میں مدد لے سکتے ہیں۔ میں وائرولوجي انسٹی ٹیوٹ بنانے میں حکومت کی مدد کر سکتا ہوں‘۔

خلیل چشتی نے کہا کہ وہ پاکستان میں قید بھارتی شہری سربجیت سنگھ کی مدد کرنے کے بھی خواہاں ہیں۔ ’ پاکستان کی جیل میں ایک بھارتی شہری سربجیت سنگھ بند ہیں، اگر موقع ملا تو میں ان سے ملاقات كرگا اور بعد میں حالات کے حساب سے ان کی مدد کرنے کی ضرور کوشش کروں گا‘۔

اسی بارے میں