بھارت: نصابی کتابوں میں کارٹون پر سنسر

Image caption ہنگامہ ملک کے آئین کے خالق ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے ایک کارٹون پر شروع ہوا

بھارتی حکومت نے سب ہی سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید مخالفت کے بعد سکول کی نصابی کتابوں میں سیاسی نوعیت کے کارٹونوں پر روک لگا دی ہے۔

بھارت کی حکومت نے آج پارلیمنٹ مین یقین دیلایا ہے کہ نصابی کتابوں سے بقول اس کے تمام قابل اعۃراض کارٹون ہٹا دیے جائیں گے اور ایسی سب ہی کتابیں واپس لے لی جائيں گی جن میں حساس نوعیت کے کارٹون شامل ہونگے۔

بھارت میں نصابی کتابیں تیار کرنے والے مرکزی ادارے این سی ای آر ٹی نے 2005 میں درجہ نو اور درجہ گیارہ کے سیاسیات کی نصابی کتاب میں کچھ کارٹون بھی شامل کیے تھے۔

دراصل ہنگامہ ملک کے آئین کے خالق ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے ایک کارٹون پر شروع ہوا۔ یہ کارٹون 1949 میں آئین وضع کرنے میں تاخیر کے پس منطر میں بنایا گیا ہے۔ اس آئین میں ہونے والی تاخیر کو ایک سست رفتار گھونگے کی شکل میں دکھایا گیا ہے جس پر ڈاکٹر امیڈکر بیٹھے ہیں اور جواہر لال نہرو اس گھونگھے کی رفتار بڑھانے کے لیے اسے چابک سے ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس کارٹون پر پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہوا ہے۔ دلت حامی جماعت بی ایس پی ایک رکن نے اسے بچوں کے ذہن کو تباہ کرنے کے سے تعبیر کیا ’بچے ہمارا مستقبل ہیں اور اس طرح کے کارٹون سے ان کے ذہن کو تباہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔‘

ایک دیگر رکن نے کہا کہ نصابی کتاب تیار کرنے والوں کو سزا دی جانی چاہئیے۔’یہ کتاب فوراً واپس لی جائے اور جنہوں نےبھی اسے تیار کیا ہے انہیں سزا دی جائے۔‘

حزب اختلاف کے ایک دیگر رکن نے کہا کہ نصابی کتابوں میں کارٹون کی کیا ضرورت تھی۔’ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیئے کہ آخر نصابی کتایوں میں اس طرح کے قابل اعتراض کارٹون شائع کرنےکی کیا ضرورت ہے۔ ہمیں اس پر سخت اعتراض ہے۔ ہم اس طرح سیاستدانوں کا مضحکہ اڑانے کا سبب فراہم کرتے ہیں۔‘

وزیرِ تعلیم کپل سبل نے کہا کہ انہوں نے ان کتابوں کا جائزہ لیا ہے اور اس میں شامل کارٹون انہیں نامناسب لگے۔ ’ہماری حکومت اس معاملے کے حساس پہلو اور ارکان کے جزبات سے اچھی طرح واقف ہے۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ان کارٹونوں کو نصابی کتابوں میں نہیں ہونا چاہیئے۔‘

کانگریس کے سینیئر رہنماء اور وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے بھی بحث میں مداخلت کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے یقین دلایا کہ سب ہی کتابیں واپس لی جا رہی ہیں۔ ’جو بھی کتابیں جاری ہو چکی ہیں انہیں واپس لیا جائے گا اور ان کتابوں کو نصاب سے ہٹا دیا جائے گا۔ پہلے کے سب ہی ایڈیشن بھی واپس لے لیے جائیں گے۔‘

لیکن بی جے پی کے رہنماء اور سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ’صرف کتاب ہٹانا کافی نہیں ہے۔ جس شخص کو ہٹانے کی ضرورت ہے وہ ہیں وزیر تعلیم جو اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔ آخر اس ملک میں وزارتی ذمہ داری کا بھی کوئی تصور ہے۔‘

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ کارٹون آزادی کے بعد بھارت کا آئین نافذ ہونے سے پہلے 1949 میں اس وقت کے ایک معروف کارٹونسٹ شنکر نے بنایا تھا۔ یہ بات بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ یہ کارٹون 2005 سے نصاب میں شامل تھا۔ تو آخرسات برس بعد اس ساٹھ سال پرانے کارٹون کی ہر طرف سے مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں میں ادب، مصوری فلم اور مذہب اور سیاست جیسے زندگی کے اہم پہلوؤوں میں عدم رواداری کو فروغ حاصل ہوا ہے اور مختلف گروپ عدم رواداری کے اور اکثر پرتشدد مظاہروں اور حملوں کے ذریعے کبھی کتابوں، تو کبھی مصوری کے فن پاروں توکبھی کارٹونوں پر اپنے نظریات مسلط کرنے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں۔