ٹُو جی کیس: سابق وزیر کی ضمانت منظور

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 مئ 2012 ,‭ 08:25 GMT 13:25 PST

اے راجہ کو گزشتہ برس دو فروری کو گرفتار کیا گیا تھا

بھارت میں ایک ذیلی عدالت نے اربوں روپے کے ٹو جی سپیکٹرم کیس میں قید سابق وزیر برائے ٹیلی مواصلات اے راجہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

اے راجہ پندرہ مہینے سے دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی کچھ کمپنیوں کو ذاتی فائدے کے لیے من مانے انداز میں پیش قیمت سپیکٹرم بانٹ کر سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔

اس کیس میں کئی سابق سرکاری اہلکاروں اور تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلی کروناندھی کی بیٹی کنی موڑی کوبھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان سبھی کی ضمانت پہلے ہی منظور کی جا چکی ہے۔

اے راجہ نے اپنی گرفتاری کے بعد پہلی مرتبہ ضمانت کی درخواست پیش کی تھی۔

اے راجہ کا تعلق بھی تمل ناڈو کی علاقائی جماعت ڈی ایم کے سے ہے اور ٹو جی کیس میں الزامات کی زد میں آنے کے بعد انہیں وفاقی حکومت سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

سپریم کورٹ نے ان کے دور میں جاری کیے جانے والے سبھی ایک سو بائیس لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ سپیکٹرم جیسے محدود وسائل کی فروخت صرف نیلامی کے ذریعہ کی جانی چاہیے لیکن حکومت ابھی تک قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے کوئی نئی پالیسی وضع نہیں کرسکی ہے۔

عدالت نے اے راجہ کی ضمانت اس بنیاد پر منظور کی کہ باقی سبھی دیگر ملزمان کو پہلے ہی ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے حالانکہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کا موقف تھا کہ ان کے خلاف الزامات کی نوعیت مختلف اور زیادہ سنگین ہے لہذا دوسرے ملزمان سے ان کی برابری نہیں کی جا سکتی۔

اے راجہ کو پچیس لاکھ روپے بطور ضمانت جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے اور وہ بغیر پیشگی اجازت تمل ناڈو نہیں جاسکیں گے۔ انہیں گزشتہ برس دو فروری کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اپنی ضمانت کی درخواست میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات فرضی اور بے بنیاد ہیں۔ ان کی درخواست کی سماعت کے بعد عدالت نے گیارہ فروری کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔