کشمیر: حریت ریلی پر پابندی، گرفتاریاں

kashmir leaders تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت نے حریت رہنما میرواعظ عمرفاورق اور ان کے ساتھیوں کو گھروں میں نظربند کیا ہے۔

علیٰحدگی پسندوں کی عوامی ریلی کو روکنے کے لئے پولیس نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بعض علاقوں کو سیل کردیا ہے میرواعظ عمرفاروق سمیت کئی رہنماؤں کو پولیس نے گھروں میں نظربند کردیا۔

اس دوران حریت کانفرنس (ع) کی کال پر وادی میں ہڑتال کی جارہی ہے جس کی وجہ سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔

عوامی ریلی کا انعقاد میرواعظ عمر کے والد مولانا محمد فاروق اور حریت کے بانی رہنما عبدالغنی لون کی برسی کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔

مولانا فاروق کو بائیس سال قبل نامعلوم اسلحہ برداروں نے ان کے گھرمیں گولی مار کر ہلاک کیا تھا، دس سال بعد ان ہی کی برسی کے موقع پر ریلی کے دوران عبدالغنی لون کو نامعلوم مسلح افراد نے مزار شہداء میں قتل کردیا۔

تب سے حریت کانفرنس (ع) دونوں رہنماؤں کی برسی ہر سال اکیس مئی کو مناتی ہے اور اس روز وادی کے سب سے بڑے مزارشہدا میں عوامی ریلی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے کئی مرتبہ بھاری عوامی اجتماعات ہوئے ہیں، لیکن اس سال حکومت نے حریت رہنما میرواعظ عمرفاورق اور ان کے ساتھیوں کو گھروں میں نظربند کیا اور مزارِشہداء کا محاصرہ کیا۔

میرواعظ عمرفاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے درجنوں کارکنوں کو شبانہ چھاپوں کے دوران گھروں سے ہی گرفتار کیا گیا ہے اور شہر میں داخل ہونے کے لئے اہم راستوں کو سیل کردیا گیا ہے۔

میرواعظ نے حکومت کی اس پالیسی کو دوغلاپن قرار دیا اور کہا کہ ایک طرف یہ حکومت جمہوریت کی بحالی کا دعویٰ کرتی ہے اور دوسری طرف پرامن اجتماعات اور فاتح خوانی پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ تحریک ختم ہوچکی ہے اور امن لوٹ آیا ہے، لیکن ہمارے اجتماعات پر پابندی عائد کرکے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ حکومت عوامی ردعمل سے خائف ہے اور لوگوں کو بندوق کی نوک پر خاموش کیا جارہا ہے۔‘

دریں اثنا ہڑتال اور سیکورٹی پابندیوں کی وجہ سے سرینگر اور گردونواح میں معمول کی زندگی متاثر ہوئی۔ سرکاری دفاتر میں کام کاج ہوا ، تاہم کاروباری اور تعلیمی ادارے بند رہے اور عوامی ٹرانسپورٹ بھی معطل رہی۔

غورطلب ہے کہ میرواعظ گروپ کے معروف رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ اور بلال غنی لون کے خلاف فی الوقت حریت کے اندر بے چینی پائی جاتی ہے۔

پروفیسر بٹ نے حالیہ دنوں کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں فرسودہ ہوچکی ہیں اور حالات کا تقاضا ہے کہ ہندنواز گروپوں کے ساتھ اشتراک عمل کا معاہدہ کیا جائے۔ اس پر شبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان سمیت کئی رہنماؤں نے احتجاج کیا ہے، یہاں تک ہے اختلافی گروپوں کے حامیوں کے درمیان اتوار کو حریت کے صدر دفتر پر ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

اس صورتحال سے متعلق میرواعظ عمر کہتے ہیں ’ہندنواز گروپ تو بھارت کے غاصبانہ قبضہ کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کے ساتھ تب ہی اتحاد ہوسکتا ہے جب وہ اقتدار ترک کرکے تحریک میں شامل ہوجائیں۔ لیکن حریت کانفرنس پارٹی نہیں ایک فورم ہے، ہر ایک کی اپنی اپنی رائے۔ مگر یہ آراء حریت کی اجتماعی پالیسی نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں