آروشی کے والدین پر مقدمہ چلانے کا حکم

والدین راجیش تلوار اور نوپور تلوار
Image caption والدین راجیش تلوار اور نوپور تلوار اپنی ہی بیٹی آروشی کے قتل کا الزام ہے

دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا میں آروشی-ہیم راج دوہرے قتل کے معاملے میں آروشی کے والدین راجیش تلوار اور نوپور تلوار پر قتل اور ثبوت کو ضائع کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد کی عدالت نے آروشی کے والدین پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ سنایا ہے۔

اس معاملے میں باضابطہ طور پر جمعہ کو الزامات طے کیے جائیں گے۔

چودہ سالہ آروشی کی لاش پندرہ مئی دو ہزار آٹھ میں ان کے بیڈ روم میں ملی تھی اس کے دوسرے دن ان کے نوکر ہیم راج کی لاش ان کے گھر کی چھت سے برآمد کی گئی تھی۔

یہ معاملہ انتہائی پراسرار بنا ہوا ہے اور اس میں عوام کی گہری دلچسپی پائی جاتی ہے۔

اس قتل کے بعد کئی مرحلوں پر بھارت کی مختلف تفتیشی ایجنسیوں نے متعدد لوگوں پر شک کا اظہار کیا تھا یہاں تک کہ بھارت کے سب سے بڑے تفتیشی ادارے سی بی آئی نے اس معاملے کو نہ سلجھنے والا معمہ کہہ کر بند کرنے کی اپیل کی تھی لیکن سپریم کورٹ کے ایماء پر اس کے متعلق دوبارہ جانچ شروع کی گئی۔

اس سے قبل بھی سی بی آئی نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں آروشی کے والدین پر واقعاتی نوعیت کی بنیاد پر شک ظاہر کیا تھا لیکن اس وقت یہ کہا تھا کہ اس کے لیے ثبوت حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 2008 میں چودہ سالہ آروشی کا قتل ہوا تھا جو کہ ابھی تک ایک معمہ بنا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ اس مقدمے کی ابتدائی تفتیش دلی کے علاقے نوئیڈا کی پولیس نے کی تھی اور اس نے اپنی رپورٹ میں آروشی کے والد راجیش تلوار کو قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

سی بی آئی نے غازی آباد کی عدالت میں اس سے قبل تیس صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کی تھی اس میں بھی آروشی کے قتل میں والدین پر شک ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن ادارے کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے بیشتر ثبوت مٹا دیے گئے ہیں اس لیے مقدمہ بند کر دیا جائے۔

سی بی آئی نے الزام لگایا تھا کہ نوپر تلوار مختلف عدالتوں میں اپیل دائر کر کے معاملے کو الجھانا چاہتی ہیں۔

تفتیش کے دوران ایجنسیاں اس ہتھیار کا بھی پتہ نہیں لگا پائی تھیں جس سے آروشی کا گلا کاٹا گیا تھا۔ آروشی کا فون بھی پندرہ مہینے بعد ملا تھا اور اس کی میموری سے ڈیٹا مِٹا دیا گیا تھا۔

نوپور اور راجیش تلوار نوئیڈا کے سرکردہ ڈاکٹر ہیں اور وہاں ایک متمول رہائشی علاقے میں رہتے ہیں۔ شروعات سے ہی دونوں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں