ایئرانڈیا:ہڑتالی پائلٹ مذاکرات پر رضامند

ائیرانڈیا کاجہاز تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ائیرانڈیا مالی بحران کا شکار ہے

بھارت کی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کے ہڑتالی پائلٹس نے حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

یہ پائلٹس گزشتہ اٹھارہ دن سے ہڑتال پر ہیں جس کی وجہ سے درجنوں پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔

ایئر انڈیا نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تربیت کے معاملے پر سو سے زیادہ پائلٹس کو نوکری سے برخاست بھی کیا ہے۔

ہڑتالی پائلٹس نے ملک کے ہوابازی کے محکمے کے وزیر کی جانب سے برخاست شدہ پائلٹس کی نوکریوں پر بحالی پر غور کرنے کا بیان سامنے آنے کے بعد ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

ہوابازی کے وزیر اجیت سنگھ نے کہا تھا کہ ’برخاست شدہ پائلٹس کی بحالی میں مضائقہ نہیں‘ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ’اگر تمام پائلٹ کام پر واپس آ جاتے ہیں تو ہر فرد کے معاملے کو الگ کر کے دیکھا جا سکتا ہے‘۔

بھارت کے سرکاری نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو کے مطابق ہڑتالی پائلٹس کی یونین انڈین پائلٹس گلڈ یونین نے اشارے دیے ہیں کہ اگر پائلٹس کی نوکریاں بحال ہوتی ہیں تو وہ کام پر واپسی کے لیے تیار ہیں۔

اطلاعات کے مطابق نئے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے پر ٹریننگ کے معاملے پر ایئر انڈیا سے تنازع کے بعد دو سو کے قریب پائلٹس نے بیماری کا بہانہ کر کے چھٹی کر لی تھی۔

یہ پائلٹس دو ہزار سات میں ایئر انڈیا میں ضم ہونے والی انڈین ایئر لائنز کے پائلٹس کو اس ٹریننگ کے لیے منتخب کیے جانے پر ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان طیاروں کی خریداری کا سودا دونوں کمپنیوں کے انضمام سے قبل ہوا تھا اس لیے انہیں تربیت میں ترجیح دی جانی چاہیے۔

دلّی ہائیکورٹ نے بھارت پائلٹس کی اس ہڑتال کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا اور انہیں کام پر لوٹنے کو کہا تھا تاہم عدالتی حکم کے باوجود متعدد پائلٹس کام پر واپس نہیں آئے تھے۔

اسی بارے میں