’پورا گا‎ؤں میرے بیٹے کی گواہی دے گا‘

فصیح محمود تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بہار کے شہری فصیح محمود کو سعودی عرب سے گرفتار کیا گیا ہے

بھارت کی ریاست بہار کے مدھوبنی اور دربھنگہ اضلاع میں مسلمان برادری میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دنوں وہ ’دہشت گردی کے الزامات‘ سے کافی پریشان ہیں۔

انہی علاقوں کے چودہ افراد کو شدت پسند کارروائیوں میں شامل یا مددگار بتا کر گزشتہ چار برسوں میں مختلف جگہوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔

بہار کے ایسے ہی ایک نوجوان انجینئر فصیح محمود کو تیرہ مئی کو سعودی عرب سے گرفتار کیا گیا۔

بہار کے دربھنگہ ضلع میں بھاڑ سمیلہ نام کا ایک گاؤں ہے اور فصیح محمود اسی مسلم اکثریت گا‎ؤں کے رہائشی ہیں۔ اس گاؤں سے حالیہ دنوں تین لڑکے مزید گرفتار ہوئے ہیں۔

ان سب پر ایک ہی طرح کا الزام ہے کہ تینوں مبینہ شدت پسند تنظيم ’انڈین مجاہدین‘ سے منسلک ہیں۔

یہ گرفتاریاں بہار پولیس کو بتائے بغیر دیگر ریاستوں کی پولیس نے کی ہیں۔

فی الحال یہ سوال اہم ہے کہ پینتیس سالہ انجینئر فصیح محمود اب کہاں اور کس کی حراست میں ہیں؟ اس کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اطلاع نہیں دی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فصیح کا والدین کا کہنا ہے کہ انکا بیٹا بے قصور ہے

فصیح محمود کی اہلیہ نکہت پروین نے بی بی سی کو بتایا ’سعودی عرب میں الزبیل علاقے میں اپنے شوہر کے ساتھ میں جہاں تھی، وہاں سادہ لباس میں چار یا پانچ لوگ آئے اور خود کو سعودی پولیس اہلکار بتایا۔ پھر کہا کہ انڈین پولیس کو کسی معاملے میں فصیح کی تلاش ہے، اس لئے اسے پہلے سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع بھارتی سفارتخانے لے جا کر انڈیا بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے ہمارے کمرے کی تلاشی بھی لی، لیپ ٹاپ اور موبائل ضبط کر کے وہ فصیح کو اپنے ساتھ لے گئے اور مجھے کسی رشتے دار کے ساتھ بھارت چلے جانے کے لیے کہا۔‘

نکہت پروین فی الوقت دلی میں ہیں اور انہوں نے جمعہ کی صبح فون پر بتایا، ’بیس مئی کو ایک بار میرے شوہر نے مجھے فون کیا تھا، یہ کال کسی سعودی پولیس والے کے فون سے کی گئی تھی۔ وہ روتے ہوئے اتنا بتا سکے کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد اس نمبر پر کوئی رابطہ نہیں ہوا۔‘

ادھر دربھنگہ ضلع کے بھاڑ سمیلا گاؤں جا کر میں نے فصیح کے لواحقین اور گاؤں والوں سے بات چیت کی۔ وہاں زیادہ تر لوگ رنج اور غم میں ڈوبے ہیں اور اپنی بے بسی بیان کرنے لگے۔

فصیح کے والد فیروز احمد پیشے سے ڈاکٹر ہیں اور گاؤں کی معزز شخصیت مانے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’نا جانے کس نے یہ سازش رچی ہے، میرے بیٹے کو اس طرح بے بنیاد الزام لگا کر پھنسایا گیا ہے۔ کچھ نہیں کر پانے کی لاچاري ہمارے سامنے ہے۔‘

فصیح کی ماں گاؤں کے ہی سکول میں ٹیچر ہیں۔ بیٹے کی گرفتاری سے وہ بے حد غم زدہ ہیں۔ روتے ہوئے بتانے لگی ’اس بات کی گواہی پورا گاؤں دے گا کہ میرا بیٹا بے قصور ہے۔ سعودی عرب اور انڈیا کی پولیس مجھے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر بتائے کہ اسے کہاں اور کیوں چھپا کر رکھا گیا ہے؟‘

ڈاکٹر فیروز کے گھر کے پاس ہی عبدالسلام کا گھر ہے۔ ان کے بیٹے كفيل اختر کو کرناٹک پولیس نے گزشتہ چھ مئی کو علی الصبح گھر میں گھس کر گرفتار کر لیا تھا۔

عبدالسلام کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردوں سے ہمارے بچوں کےمنسلک ہونے یا انڈین مجاہدین کے لئے کام کرنے کے الزام لگانے کے پیچھے ضرور ایسی طاقتیں کام کر رہی ہوں، جو ہندو - مسلم تفریق کی بنیاد پر سیاست کرتے ہوں گے۔ میرا بیٹا تو کسی کا دل دكھانے سے ڈرتا تھا، وہ خونی کھیل کا حصہ کیسے ہوسکتا ہے۔‘

اس واقعہ کے بعد ریاست کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کرناٹک کے وزیر اعلی کو خط لکھ کر احتجاج کا اظہار کیا تھا۔ بہار پولیس کو اطلاع دیے بغیر اس کاروائی کو انجام دینے کو انہوں نے قانونی عمل کی خلاف ورزی تصور کیا تھا۔

کرناٹک حکومت نے جوابی خط میں صفائی دی تھی کہ اس ضروری خفیہ کارروائی کی معلومات کہیں فاش نہ ہو جائیں، اسی لئے احتیاط برتی گئی۔

دوسری جانب بہار کے پولیس ڈائریکٹر جنرل ابھی آنند نے اس دلیل سے نا اتفاقی ظاہر کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ریاستوں کے درمیان ایسا عدم اعتماد خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

مدھوبنی اور دربھنگہ اضلاع کے دیہی علاقوں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں جس گاؤں کا کوئی مسلمان اس طرح کے الزام میں پکڑا جاتا ہے تو اس پورے گاؤں کے مسلمانوں کو دہشت گردوں کا مددگار مان لیا جاتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بدنامی اس قدر پھیلتی ہے کہ برادری کے ہی بہت سے لوگ اُن گا‎‎ؤں میں رشتے بنانے سے گریز کرتے ہیں اور دربھنگہ اور مدھوبنی اضلاع کے جو نوجوان اگر دیگر علاقوں میں کہیں پڑھتے یا کام کرتے ہیں تو ان پر اپنے ہی خاندان کے لوگ شک کی نظر رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں