انڈیا کی ارب پتی اچھوت

کلپنا سروج
Image caption کلپنا باقاعدگی سے اپنے گاؤں جاتی ہیں اور فلاحی کام کرواتی ہیں۔

انڈیا میں ایک اچھوت خاتون جو ماضی میں غربت اور استحصال سے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش بھی کر چکی ہے ایک کروڑوں ڈالر کی کمپنی کی سربراہ بن گئی ہے۔

کلپنا سروج نیچی ذات سمجھے جانے والے ایک دلت خاندان میں پیدا ہوئی تھی جہاں بارہ برس کی عمر میں اس کی شادی ہو گئی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی جان لینے کی بھی کوشش کی۔ آج وہ ممبئی میں کروڑ پتی ہیں۔

’میں پہلی بار جب ممبئی آئی تو مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ کدھر جانا ہے، میں ایک انتہائی چھوٹے سے گاؤں سے آئی تھی۔‘ کلپنا نے بی بی سی سے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اب ممبئی میں ان کمپنی کے نام پر دو سڑکیں ہیں۔

باون سالہ کلپنا نے اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کچھ دوستوں کے والدین انہیں اپنے گھر میں نہیں آنے دیتے تھے اور دلت ہونے کی وجہ سے انہیں سکول میں کچھ کاموں میں حِصّہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے غصہ آتا تھا، میں گھبرا جاتی تھی کیونکہ کئی بار مجھے لگتا تھا کہ شاید میں انسان نہیں ہوں۔‘ کلپنا کے والد نے ان کو سکول میں داخل کروایا اور تعلیم دلوانے کی کوشش کی لیکن خاندان کے دباؤ میں بارہ برس کی عمر میں ان کی شادی ہو گئی۔ ان کا خاوند ان سے عمر میں دس برس بڑا تھا۔

شادی کے بعد وہ اپنے خاوند کے پاس ممبئی آ گئیں جہاں انہیں چھونپڑی میں رہنا پڑا۔ کلپنا نے کہا کہ ممبئی میں ان کے خاوند کے خاندان والوں نے ان پر بہت ظلم کیا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر مار پیٹ ہوتی تھی۔

کلپنا اپنے والد کی حمایت اور مدد سے اپنے خاوند سے علیحدگی میں کامیاب ہو گئیں۔ شروع میں انہوں نے کپڑے سی کر گزارا کرنے کی کوشش کی لیکن گاؤں والے انہیں ایک ناکام عورت کے طور پر دیکھتے تھے اور اسی دباؤ میں آ کر انہوں نے خودکشی کی بھی ناکام کوشش بھی کی۔ کلپنا نے زہریلی گولیاں کھا لی تھیں لیکن ان کی ایک رشتہ دار نے انہیں بچا لیا۔

اس واقعے کے بعد کلپنا نے فیصلہ کیا کہ وہ جیئں گی، کچھ بڑا کام کریں گی اور پھر مر جائیں گی۔‘ اس فیصلہ کے بعد وہ سولہ برس کی عمر میں دوبارہ ممبئی گئیں اور اپنے ایک چچا کے پاس رہنا شروع کر دیا اور لوگوں کے کپڑے سینے لگیں۔

اسی دوران ان کی ایک بہن علاج کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ کلپنا نے فیصلہ کیا کہ زندگی میں پیسہ بہت اہم ہے۔ انہوں نے اپنا کاروبار شروع کرنے کہ لیے حکومت سے قرضہ لیا اور فرنیچر کا کام بھی شروع کر دیا۔

کچھ عرصےکے بعد انہوں فرنیچر کا کام کرنے والے ایک شخص سے شادی کر لی اور اب ان کے دو بچے بھی ہیں۔ کلپنا کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے انہیں قرضے میں ڈوبی ہوئی ایک کمپنی ’کمانی ٹیوبز‘ کا انتظام سنبھالنے کے لیے بھی کہا۔ انہوں نے کمپنی کی حالت بدل دی جو اب دس کروڑ ڈالر کی مالیت کی کمپنی ہے۔

کلپنا باقاعدگی سے اپنے گاؤں جاتی ہیں اور فلاحی کام کرواتی ہیں۔

اسی بارے میں