جگن گیارہ جون تک عدالتی تحویل میں

جگن موہن ریڈی تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption جگن موہن ریڈی نے اپنی الگ پارٹی بنائی ہے۔

بھارت کی جنوبی ریاست آندھر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کے بیٹے اور کڑپّا سےرکن پارلیمنٹ جگن موہن ریڈی کو آمدنی سے زیادہ املاک رکھنے کے معاملے میں گیارہ جون تک عدالتی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔

اس سے قبل بھارت کے سب سے بڑے تفتیشی ادارے سی بی آئی نے جگن موہن اور ان کی کمپنی کے مالی مشیر وجے سائیں ریڈی کو چودہ دنوں کے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی اپیل کی تھی۔

سی بی آئی کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ جگن موہن پر سنگین الزامات ہیں اور انھوں نے گذشتہ تین دنوں کی تفتیش میں سی بی آئی کے ساتھ تعاون نہیں کیا ہے اس لیے عدالتی تحویل میں لے کر ان کی سے پوچھ گچھ ضروری ہے۔

دوسری جانب جگن موہن کے وکیل نے سی بی آئی کی اس مانگ کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں گرفتار کرنے کے پیچھے انھیں ضمنی انتخابات کی انتخابی مہم سے روکنا مقصود ہے۔

جسٹس پلیا نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تیرہ میں سے گیارہ لوگوں کو ضمانت پر چھوڑ دیا جبکہ جگن اور ان کے مشیر کو عدالتی تحویل میں دے دیا۔

سی بی آئی نے الزام لگایا ہے کہ جگن نے اپنے والد کے وزیراعلی رہنے کے دوران غلط ڈھنگ سے اپنی کمپنی کے لیے تین سو کڑور روپے اکٹھا کیے۔

اس کے علاوہ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے حوالہ کے ذریعہ سندور پاور کمپنی میں لکزمبرگ سے ایک سو چالیس کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے علاوہ ان کمپنی میں حساب کتاب میں گڑ بڑ کا بھی الزام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption جگن موہن ریڈی پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی کمپنی کے لیے غلط ڈھنگ سے 300 کروڑ اکٹھا کیا۔

وکیل استغاثہ نے الزام لگایا کہ انھوں نے دس روپے کے شیئر تین سو روپے میں فروخت کیے جس کے ذریعہ اس ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا اور یہ ملک سے غداری کے مترادف ہے۔

اس مقدمے میں دو دیگر افراد کے ریمانڈ کی مدت میں اضافہ کیا گیا ہے جن میں جگن کی کمپنی میں ساڑھے آٹھ ارب کی سرمایہ کاری کرنے والے صنعتکار نمّا گڈّا پرساد اور ایک سول سروسز کے عہدیدار برہمانند ریڈی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جگن موہن کے بچاؤ کے لیے بھارت کے سپریم کورٹ کے تین بڑے وکیل رام جیٹھ ملانی، موکل روہتگی، اور سوشیل کمار موجود تھے۔

جگن موہن پہلے کانگریس پارٹی میں تھے لیکن اپنے والد وائی ایس آر ریڈی کی موت کے بعد جب وہ ریاست کے وزیر اعلی نہ بن پائے تو انھوں نے بغاوت کر دی اور وائی ایس آر کانگریس کے نام سے ایک علیحدہ پارٹی بنا لی۔

ان کا دعوی ہے کہ ریاست کے بہت سے کانگریس کے ایم ایل اے ان کے ساتھ ہیں اور وہ جب چاہیں ریاستی حکومت کو گرا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں