نہ بجلی، نہ کوچنگ پھر بھی اول

محمد عصمت اپنے والد کے ساتھ تصویر کے کاپی رائٹ bbc

بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور کے محمد عصمت پہلے شخص ہیں جنھوں نے بارہویں جماعت کے امتحانات میں اول مقام حاصل کیا ہے۔

بھارت کے مرکزی سکول اکزامینیشن بورڈ ( سی بی ایس ای) کی بارہویں جماعت کے امتحانات میں اول مقام حاصل کرنے والے محمد عصمت کا کہنا ہے کہ انسان محنت کرے تو کیا نہیں ہو سکتا۔

عصمت نے بارہویں جماعت کے امتحانات میں ننانوے فی صد نمبر حاصل کیے اور اس طرح ملک میں اول مقام حاصل کیا۔

محمد عصمت نے کہا کہ وہ ریاست میں ہڑتال، بجلی کی فراہمی میں کمی اور خوف کے ماحول کے دوران کڑی محنت، مصمم ارادے اور استقلال کے ساتھ اپنی تعلیم میں مشغول رہتے تھے۔

شمال مشرقی ریاستوں سے یہ مقام حاصل کرنے والے عصمت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہ تمام مشکلات ان کے سامنے نہ ہوتیں تو وہ شاید اس مقام کو حاصل نہیں کر پاتے۔

سی بی ایس ای بھارت کا سب سے بڑا تعلیمی بورڈ ہے جو ملک بھر میں مرکزی حیثیت سے امتحانات منعقد کرواتا ہے اور ملک میں اسی کا سکہ چلتا ہے۔

منی پور کے دارالحکومت امپھال کے زینتھ اکیڈمی سے عصمت نے سائنس اسٹریم کی پڑھائی کی ہے۔

انھوں نے انگریزی میں اٹھانوے فی صد، علم طبیعیات یعنی فزکس میں ستانوے فیصد، علم کیمیا یعنی کیمسٹری میں سو فی صد، علم الحساب یعنی میتھ میٹکس میں سو فیصد، ہوم سائنس میں سو فیصد اور آرٹ میں سو فیصد نمبر حاصل کیے۔

عصمت کا کہنا تھا ’منی پور میں آئے دن احتجاجی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں، بجلی کا یہ حال ہے کہ ایک دن میں دو تین گھنٹے ہی آتی ہے اور کئی طرح کی دوسری مشکلات بھی ہیں۔ ان سب کے باوجود میری محنت لگن اور تعلیم کے شوق نے مجھے یہاں تک پہنچایا۔‘

عصمت نے نہ تو کسی قسم کی کوچنگ لی اور امتحانات کی تمام تیاریاں گھر پر ہی کی۔

انھوں نے اپنے سکول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سکول کے ڈائریکٹر نے ان کی فیس معاف کر دی تھی۔

عصمت کا حدف اب سول سروسز میں آئی اے ایس بننا ہے اور وہ دلّی کے سینٹ اسٹیفن کالج سے فزکس میں گریجوئیٹ کرنا چاہتے ہیں۔

اپنی تیاری کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ پوری توجہ کے ساتھ دن میں آٹھ سے دس گھنٹے پڑھا کرتے تھے۔

اسی بارے میں