بھارتی حکومت کی’ کفایت شعاری مہم‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیرِ خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ حکومت اخراجات میں کمی لائے گی

بھارت کی مرکزی وزارت خزانہ نے اخراجات میں کمی کے منصوبے کے تحت بلاضرورت غیر ملکی دوروں، نئی گاڑیوں کی خریداری اور تمام وزارتوں اور محکموں میں نئی ملازمتوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ فائیو سٹار ہوٹلوں میں سرکاری اجلاسوں کے انعقاد پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے حکم میں وزارتوں اور سرکاری محکموں سے غیر ضروری اخراجات میں بھی اس مالی سال کے دوران دس فیصد کمی لانے کے لیے کہا گیا ہے۔

وزارتوں کو بھیجے گئے حکم میں کہا گیا ہے کہ ان كٹوتيوں کو لاگو کرنے کی ذمہ داری متعلقہ محکموں کے سیکرٹریوں کی ہوگی۔

یہ حکم اسی دن جاری ہوا ہے جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال کی پہلی سہ ماہی میں بھارت میں ترقی کی شرح گزشتہ نو سال کے سب سے نچلے درجے پر پہنچ گئی ہے۔

حال میں پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ حکومت اخراجات میں کمی لائے گی۔

وزارت کا کہنا ہے کہ سرکاری وسائل پر دباؤ کے پیش نظر خرچ میں کمی اور موجود وسائل کے بہتر استعمال کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی معیشت میں بہتری لائی جا سکے۔

وزارت خزانہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ریاستوں، سرکاری کمپنیوں اور خود مختار اداروں کو دی جانے والے رقم میں اور زیادہ ڈسپلن لایا جائے گا.

حالانکہ وزارت خزانہ نے پچھلی بار کی طرح فضائی سفر میں ’اكانومي کلاس‘ میں سفر پر زور نہیں دیا ہے لیکن کہا گیا ہے کہ ہر محکمہ سفر پر اتنا ہی خرچ کرے جتنا بجٹ میں اس کو دیا گیا ہے۔

مالی سال دو ہزار گیارہ بارہ میں بھارتی حکومت کا بجٹ خسارہ خام ملکی پیداوار کا پانچ اعشاریہ سات فیصد تھا اور مرکزی حکومت اسے کم کر کے پانچ اعشاریہ ایک فیصد پر لانا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں