بھارت: بدعنوانی کے خلاف مہم میں شدت

انّا ہزارے اور بابا رام دیو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انّا ہزارے اور بابا رام دیو نے کالے دھن اور بدعنوانی کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے

بھارت میں کالے دھن اور بدعنوانی کے خلاف تحریک کی حمایت کے لیے ملک کے معروف یوگا سادھو بابا رام دیو نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔

بابا کا کہنا ہے کہ انّا ہزارے کے ساتھ ان کی یہ تحریک سیاسی نہیں ہے اور اس کا مقصد ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہے۔

لیکن حکمران پارٹی کانگریس کا کہنا ہے کہ انّا اور بابا نے بدعنوانی کے نام پر وزیر اعظم اور ان کی حکومت کے خلاف سیاسی مہم شروع کر رکھی ہے۔

انّا ہزارے اور بابا رام دیو نے اتوار کو دلّی میں ایک ریلی کے بعد بدعنوانی کے خلاف اپنی تحریک میں شدت پیدا کر دی ہے۔

پیر کو بابا رام دیو نے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی کے صدر سے ملافات کی او ر ان سے اپنی تحریک کے لیے حمایت مانگی۔

اس ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے صدر نتین گڈکری نے تحریک کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ’یہ کوئی سیاسی تحریک نہیں ہے۔ یہ قومی تحریک ہے۔ جس طرح انگریزوں کو یہاں سے نکالنے کے لیے گاندھی جی نے تحریک چلائی تھی اسی طرح کی یہ قومی بیداری کی ایک تحریک ہے۔‘

بابا رام دیو نے اس بات کی وضاحت کی کہ ان کی تحریک کسی جماعت کے خلاف نہیں ہے اور وہ غیر ممالک میں جمع کالے دھن کو ملک واپس لانے کے لیے سبھی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ’میں نے سونیا گاندھی سے وقت مانگا ہے۔ میں نے اے بی بردھن سے بات کی ہے۔ پرکاش کرات سے بھی وقت مانگا ہے۔ لالو یادو سے بھی بات کی ہے۔ اب تک میں تقریباً دس جماعتوں سے بات چیت کر چکا ہوں۔‘

بابا نے کہا کہ غیر ممالک میں کئی لاکھ کروڑ روپے غیر قانونی طور پر جمع ہیں اور اس دولت کو ملک میں واپس لانے سے ہر کسی کو فائدہ پہنچے گا۔

’یہ ملک کا معاملہ ہے۔ کالے دھن کی واپسی سے مہنگائی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے کسان مزدور، مسلمان، ہندو، غریب امیر، سبھی کو فائدہ پہنچے گا۔‘

بابا رام دیو نے سیاسی رہنماؤں سے ملاقات ایک ایسے وقت میں شروع کی ہے جب انّا ہزارے اور ان کے ساتھیوں نے بدعنوانی کے سلسلے میں وزیر اعظم منموہن سنگھ سمیت چودہ وزرا کا نام جاری کیا ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption من موہن سنگھ کو بھی بدعنوانی کے الزام میں انا ہزارے نے نہیں چھوڑا

انّا نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہ وزیر اعظم بھی شک کے دائرے میں ہیں۔’میں نے جب کاغذات کا جائزہ لیا تو مجھے لگا کہ وزیر اعظم بھی شک کے دائرے میں آتے ہیں۔‘

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے پیر کو انّا ہزارے اور حزب اختلاف کی جماعتوں پر شدید حملے کرتے ہوئے کہا ہے کہ’یہ وزیر اعظم پر بے بنیاد الزام لگا کر ان کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے پارٹی کی ایک میٹنگ میں رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اس سازش کا پوری طاقت سے مقابلہ کریں۔

محترمہ گاندھی کے بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے صدر نے کہ’یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ بدعنوانی جیسے قومی معاملے کو انہوں نے سیاسی نقطہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کی۔‘

انّا ہزارے اور بابا رام دیو نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک احتسابی ادارہ یعنی لوک پال کے قیام اور کالے دھن کی واپسی کے لیے تحریک چلا رکھی ہے۔

انّا اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ بدعنوانی بھارت کے پورے نظام میں پھیلی ہوئی ہے اور سیاسی جماعتیں اسے ختم کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں