دلی میٹرو: خودکشی کے واقعات میں اضافہ

دلی میٹرو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دلی کے میٹرو بے حد مقبول ہے

بھارت کے دارالحکومت دلی کی میٹرو ریل نے ایک جانب جہاں عوام کی زندگی بے حد آسان کر دی ہے وہیں اسی میٹرو ٹریک پر آئے دن خودکشی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

بی بی سی کو یہ معلومات دلی میں میٹرو کی انتظامیہ ڈی ایم آر سی کے دفتر میں رکھی نئی اور پرانی فائلوں سے موصول ہوئیں ہیں۔

ستائیس اپریل دو ہزارہ بارہ کو آٹھ بجکر ستائیس منٹ پر ایک سترہ سالہ مسافر پلیٹ فارم سے نیچے ریلوے ٹریک پر کودنے کی کوشش کر رہا تھا تبھی اسے ایک سٹیشن اہلکار نے بچا لیا۔

اسی برس پچیس مارچ صبح تقریباً گیارہ بجے ایک لڑکی نے میٹرو ٹریک پر کود کر اپنی جان دے دی۔بعد میں اس لڑکی کے گھر سے خودکشی سے پہلے لکھا گیا خط ملا۔

اسی برس انیس فروری کو ایک بیالیس سالہ شخص نے میٹرو ٹریک پر کود کر اپنی جان دینے کی کوشش کی۔ ان کے سر پر گہری چوٹ آئی لیکن جسم پر کوئی خاص چوٹ نہیں تھی۔ اس واقعہ کے دس منٹ کے بعد پولیس اور فوری طبی امداد کے محکمے کو فون کیاگیا لیکن کوئی امداد نہیں آئی جس کی وجہ سے اس شخص کو ہسپتال پہنچانے میں تاخیر ہوگئی۔ انیس فروری سے اب تک یہ شخص دلی کے فورٹیس ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

دلی کی مقبول ترین میٹرو ریل سے منسلک یہ چند ایسے واقعات ہیں جو میٹرو ریل کی بدانتظامی اور سکیورٹی سے متعلق اہم سوالات اٹھاتی ہے۔

واضح رہے کہ دلی کی میٹرو ٹریک پر خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مشکلات کی زندگی سے ہار مان چکے لوگ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لیے میٹرو کو ایک آسان ذریعہ سمجھ کر اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

حالانکہ یہ بات بھی درست ہے کہ میٹرو ٹریک پر خودکشی کرنے کے کئی واقعات صرف اس لیے ٹل گئے کیونکہ وہاں موجود پر میٹرو سٹاف نے لوگوں کو خودکشی کرنے سے بچا لیا۔

خودکشی کرنے کی کوشش کرنے والوں میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں لیکن میٹرو کے دفتر میں موجود دستاویزات سے ایسا لگا کہ خودکشی کرنے والوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔

دلی ریلوے میٹرو کارپوریشن کے ترجمان انوج دیال سے بی بی سی نے پوچھا کہ کتنے لوگوں نے میٹرو سٹیشنز پر خودكشي یا اس کی کوشش کی ہے تو انہوں نے کہا کہ’ان کا محکمہ اس طرح کے اعداد و شمار نہیں رکھتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’اخباروں میں تو صرف خود کشی کے واقعات شائع ہوتے ہیں، ان کا ذکر نہیں ہوتا جن کی زندگی بچا لی جاتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لوگوں کو خودکشی کرنے سے بچانے کے لیے جو کچھ بھی کیا جا سکتا ہے وہ ہم کرتے ہیں۔‘

دراصل بی بی سی نے میٹرو اہلکاروں سے آر ٹی آئی یعنی معلومات تک رسائی کے حقوق کے تحت میٹرو سٹیشنز پر ہونے والے خودکشی کے واقعات کے اعداد و شمار طلب کیے تھے لیکن دلی میٹرو کے دفتر نے یہ اعداد و شمار دینے سے انکار کر دیا۔

لیکن آخر کار دلی میٹرو کے محکمے نے بی بی سی کو میٹرو کی وہ فائلیں دیکھنے کی اجازت دے دی جس سے پتہ چلا کہ دلی شہر میں کتنے لوگ آئے دن اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی بارے میں