پینتیس لاکھ میں دو ٹائلٹس کی ’معمولی‘ مرمت

Image caption ان تفصیلات کے منظر عام پر آنے کے بعد سے مختلف حلقوں کی جانب سے منصوبہ بندی کمیشن پر سخت تنقید کی گئی ہے

بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن نے دو بیت الخلاء کی مرمت اور ان میں سینٹری کا نیا سامان لگوانے پر تقریباً پینتیس لاکھ روپے خرچ کیے ہیں لیکن کمیشن نے فضول خرچی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رقم معمول کی مرمت پر خرچ کی گئی تھی۔

ٹائلٹس یا بیت الخلاء کی مرمت پر اخراجات کی تفصیل معلومات کے حق کے تحت خود کمیشن نے ایک عرضی کے جواب میں جاری کی ہیں۔

منصوبہ بندی کمیشن ملک میں مالی وسائل کے مناسب استعمال کی نگرانی کرتا ہے لیکن حال ہی میں وہ ملک میں غریبوں کی تعداد کے تعین کے سلسلے میں تنازعات میں گھرا رہا ہے۔

کمیشن کے مطابق ملک میں صرف وہ لوگ ہی انتہائی غریب کے زمرے میں شمار کیے جا سکتے ہیں جو روزانہ تقریباً اٹھائیس روپے سے کم پر گزار کرتے ہیں۔ لیکن حکومت نے اب غریبوں کی نشاندہی کے لیے نیا طریقہ کار وضع کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

دلّی میں بی بی سی کے نامہ نگار سہیل حلیم کا کہنا ہے کہ اطاعات کےمطابق منصوبہ بندی کمیشن کے نائب چیئرمین کی حیثیت سے مونٹیک سنگھ آہلووالیہ نے مئی سے لیکر اکتوبر دو ہزار گیارہ تک غیر ملکی دوروں پر روزانہ اوسطاً دو لاکھ روپے خرچ کیے۔ مسٹر آہلووالیہ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی دورے ان کے فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری ہیں۔

کمیشن نے عرضی گزار ایس سی اگروال کی ایک درخواست کے جواب میں بتایا کہ تیس لاکھ روپے’ری فربشمنٹ’ (مرمت اور نئے سامان وغیرہ) پر خرچ کیے گئے جبکہ تقریباً پانچ لاکھ روپے سمارٹ کارڈ جاری کرنے پر خرچ ہوئے۔ یعنی صرف وہ ہی لوگ ٹائلٹ استعمال کر سکیں جنہیں یہ کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔یہ سمارٹ کارڈ کمیشن کے ساٹھ سینیئر افسران کو جاری کیے گئے ہیں۔

ان تفصیلات کے منظر عام پر آنے کے بعد سے مختلف حلقوں کی جانب سے منصوبہ بندی کمیشن پر سخت تنقید کی گئی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر لیڈر بلبیر پنج نے کہا کہ حکومت کفایت شعاری کا صرف شور مچاتی ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتی۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ٹائلٹ کے راستے میں سی سی ٹی وی بھی نصب کیے جانے ہیں تاکہ ٹائلٹ سے سینٹری کے سامان کی چوری روکی جا سکے۔

اس خبر پر میڈیا میں ہنگامہ ہونے کے بعد کمیشن نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’بدقسمتی سے معمول کی مرمت کو فضول خرچی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پبلک ٹائلٹس ہیں سینیئر افسران کے لیے نجی ٹائلٹس نہیں۔ ہر بیت الخلاء کو بیک وقت دس لوگ استعمال کر سکتے ہیں لہٰذا یہ تاثر درست نہیں ہے کہ یہ رقم صرف دو ٹائلٹس پر خرچ کی گئی ہے۔‘

ادارے کا کہنا ہے کہ’منصوبہ بندی کمیشن کی عمارت (یوجنا بھون) میں ہر سال پندرہ سو سے زیادہ میٹنگ ہوتی ہیں، ایک پرانی شکایت یہ تھی کہ ٹائلٹس کی حالت بہت خراب ہے۔یوجنا بھون ایک اہم سرکاری عمارت ہے اور یہاں بنیادی سہولیات کا ہونا اشد ضروری ہے۔‘

اسی بارے میں