بھارت:تیز رفتار ترقی کے لیے بڑے منصوبے

منموہن سنگھ اور مونٹیک سنگھ آہلووالیہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہندوستان کی معیشت کی شرح ترقی کی رفتار سست ہے

بھارتی حکومت نے ملکی معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے میں دو لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اقتصادی حالات بہتر کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں بڑی سطح پر سرمایہ کاری کی جائے گی۔

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ لگاتار آٹھ برسوں تک ترقی کی شرح میں اضافے کے بعد اس وقت بھارت کی معیشت بھنور میں ہے۔

آئندہ پانچ برسوں میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت بتاتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا ’ایسے مشکل حالات میں ہمیں سرمایہ کاری کی حالت سدھارنے کے علاوہ نجی اور عوامی شعبوں میں تجارتی ماحول ٹھیک کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے‘۔

بدھ کو منموہن سنگھ نے انفراسٹرکچر شعبوں سے منسلک وزراتوں کے وزراء کا ایک اجلاس بلایا تھا۔ اس میں بجلی سڑکیں، بندرگاہ ، ریلوے، کوئلہ اور ہوا بازی کے شعبے بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے منموہن سنگھ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’حکومت نے صرف معیشت سے متعلق چیلنجز سے واقف ہے بلکہ ان حالات کو سدھارنے کے لیے ان ضروری اقدامات کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے جن سے بھارت کی معیشت کو دوبارہ صحیح راہ پر لایا جا سکے۔ ان کوششوں سے بھارت پھر ایک بار نو فی صد کی شرح ترقی حاصل کرنے کی سمت میں آگے بڑھ سکے گا‘۔

اطلاعات کے مطابق اس میٹنگ میں جو اہداف رکھے گئے ہیں ان کا ہر تین ماہ پر جائزہ لیا جائے گا۔

اس اجلاس میں مختلف شعبوں کے لیے جو اہم ہدف طے کیے گئے ہیں ان کے تحت ہوا بازی کے شعبے میں کل چھتیس منصوبوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ نوی ممبئی، گووا، کننور میں تین نئے گرین فیلڈ ائیرپورٹ بنائے جائیں گے جبکہ لکھنو، بنارس، کوئمبٹور، بہار کے گیا شہروں میں نئے عالمی ہوائی اڈے بنائے جائیں گے۔

وہیں آندھرا پردیش اور مغربی بنگال میں دو نئے بندرگاہ بنیں گی اور ریلوے کے شعبے میں اہم سرمایہ کی جائے گی اور ممبئی اور احمدآباد کے درمیان بلٹ ٹرین چلائي جائے گی۔

اسی بارے میں