نوپر تلوار کی نظرثانی کی درخواست مسترد

نوپر تلوار تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آروشی قتل معاملے میں بھارتی میڈیا نے گہری دلچسپی دکھائی تھی

بھارتی سپریم کورٹ نے دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا میں آروشی- ہیم راج دوہرے قتل کے معاملے میں آروشی کے والدین کی نظرثانی کی درخواست خارج کر دی ہے۔

آروشی کی والدہ نوپر تلوار نے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی کہ انہیں اور انکے خاوند کو آروشی- ہیم راج قتل کے معاملے میں ملزم بنانے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔

لیکن سپریم کورٹ نے ان کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں دوبارہ تفتیش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

سی بی آئی کے وکیل آر کے سینی نے کہا ہے ’نظر ثانی کی درخواست خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ غازی آباد کی فیصلہ صحیح ہے اور مجسٹریٹ نے فیصلے کے صحیح ہونے کی وجوہات بھی بتائیں۔ اس کے علاوہ نظرثانی کی درخواست کے خارج ہونے کے ساتھ ساتھ ضمانت کی عرضی بھی خارج ہوجاتی ہے‘۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ نوپر تلوار اور راجیش تلوار پر غازی آباد کی عدالت کے فیصلے کے تحت قتل کا مقدمہ چلایا جائے گا اور نوپر تلوار غازی آباد کی جیل میں رہیں گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ریاست اترپردیش کے شہر غازی آباد کی ایک عدالت نے آروشی کے والدین پر قتل کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ سنایا تھا۔

چودہ سالہ آروشی کی لاش پندرہ مئی دو ہزار آٹھ میں ان کے بیڈ روم میں ملی تھی اس کے دوسرے دن ان کے نوکر ہیم راج کی لاش ان کے گھر کی چھت سے برآمد کی گئی تھی۔

یہ معاملہ انتہائی پراسرار بنا ہوا ہے اور اس میں عوام کی گہری دلچسپی پائی جاتی ہے۔

اس قتل کے بعد کئی مرحلوں پر بھارت کی مختلف تفتیشی ایجنسیوں نے متعدد لوگوں پر شک کا اظہار کیا تھا یہاں تک کہ بھارت کے سب سے بڑے تفتیشی ادارے سی بی آئی نے اس معاملے کو نہ سلجھنے والا معمہ کہہ کر بند کرنے کی اپیل کی تھی لیکن سپریم کورٹ کے ایماء پر اس کے متعلق دوبارہ جانچ شروع کی گئی۔

اس سے قبل بھی سی بی آئی نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں آروشی کے والدین پر واقعاتی نوعیت کی بنیاد پر شک ظاہر کیا تھا لیکن اس وقت یہ کہا تھا کہ اس کے لیے ثبوت حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

اس مقدمے کی ابتدائی تفتیش دلی کے علاقے نوئیڈا کی پولیس نے کی تھی اور اس نے اپنی رپورٹ میں آروشی کے والد راجیش تلوار کو قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

سی بی آئی نے غازی آباد کی عدالت میں اس سے قبل تیس صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کی تھی اس میں بھی آروشی کے قتل میں والدین پر شک ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن ادارے کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے بیشتر ثبوت مٹا دیے گئے ہیں اس لیے مقدمہ بند کر دیا جائے۔

سی بی آئی نے الزام لگایا تھا کہ نوپر تلوار مختلف عدالتوں میں اپیل دائر کر کے معاملے کو الجھانا چاہتی ہیں۔

تفتیش کے دوران ایجنسیاں اس ہتھیار کا بھی پتہ نہیں لگا پائی تھیں جس سے آروشی کا گلا کاٹا گیا تھا۔ آروشی کا فون بھی پندرہ مہینے بعد ملا تھا اور اس کی میموری سے ڈیٹا مِٹا دیا گیا تھا۔

نوپور اور راجیش تلوار نوئیڈا کے سرکردہ ڈاکٹر ہیں اور وہاں ایک متمول رہائشی علاقے میں رہتے ہیں۔ شروعات سے ہی دونوں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں