جناح کےخطاب کی ریکارڈنگ نہیں

محمد علی جناح تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن محمد علی کے جناح کے خطاب کی ریکارڈنگ کی تلاش میں ہے

بھارت کے سرکاری ریڈیو آل انڈیا ریڈیو کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی 1947 کی وہ اہم ریکارڈنگ موجود نہیں ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے عوام بغیر کسی سرکاری مداخلت کے کسی بھی مذہب کو قبول کرسکتے ہیں۔

آل انڈیا ریڈیو نے بات بی بی سی کو بتائی ہے۔

محمد علی جناح نے اس خطاب میں مذہب کی آزادی کے علاوہ یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان ایک سیکولر ملک رہے گا اور سبھی کو اپنی مرضی کے مذہب کو اپنانے کی آزادی ہوگی۔

اس سے قبل پاکستان کے سرکاری ریڈیو پاکستانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے آئی آر سے اس ریکارڈنگ کو مانگا تھا۔

آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی منڈلوئی نے بی بی سی کو بتایا ’ایک خاص تاریخ کو دیےگئے خطاب کے بارے میں مجھے پاکستانی ریڈیو سے فون آیا تھا لیکن ہمارے پاس وہ ٹیپ نہیں ہے۔‘

مسٹر منڈلوئی کا کہنا ہے کہ وہ اس کی اطلاع اب بھارت کے سرکاری براڈکاسٹنگ ادارے پرسار بھارتی کو دیں گے اور پھر پاکستان کو بھی اس بارے میں اطلاع دی جائے گی۔

پاکستان میں اہلکاروں کے مطابق انہوں نے اس ریکارڈنگ کے لیے پہلے بی بی سی سے رابطہ کیا تھا۔

پاکستانی براڈکاسنٹگ کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل مرتضیٰ سولنگی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کوبتایا ہے کہ بی بی سی بھی اپنے آرکائیو میں اس ریکارڈنگ کو نہیں ڈھونڈ پایا ہے۔

مسٹر سولنگی نے بتایا :’یہ خطاب ان لوگوں کے لیے بہت ضروری ہے جو پاکستان کو ایک جدید، کثیرالثقافتی جمہوریت کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ محمد علی جناح نے اپنے اس خطاب میں کہا تھا:’آپ آزاد ہیں۔ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ اپنے مسجدوں میں یا پوجا کے کسی بھی مقام پر جانے کے لیے آزاد ہیں'۔

اسی بارے میں