کشمیر: مفرور میجر کی خودکشی

جلیل اندرابی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرکردہ وکیل اور سماجی کار کن جلیل اندرابی کو فوج نے اغوا کرکے قتل کیا تھا

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے معروف وکیل جلیل اندرابی اور دیگر افراد کے قتل کا معاملہ میجر اوتار سنگھ کی خودکشی کے ساتھ ہی ختم ہوگیا لگتا ہے۔

سینتالیس سالہ میجر اوتار سنگھ سولہ سال قبل سرینگر میں اپنی فوجی یونٹ سے فرار ہوکر امریکہ میں اپنی دوسری بیوی اور تین بچوں کے ساتھ آباد ہوگئے تھے۔

اُنیس سو چھیانوے میں جلیل اندرابی کے اغوا اور قتل کے الزام میں میجر اوتار سنگھ مقامی پولیس کو مطلوب تھے۔

امریکی میڈیا کے مطابق میجر اوتار سنگھ، جو کیلیفورنیا میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی چلاتے تھے، نے پولیس کو فون پر بتایا کہ انہوں نے بیوی اور تین بچوں کو ہلاک کیا ہے۔

پچھلے سال ہی پولیس نے میجر سنگھ کو اپنی بیوی پر جسمانی تشدد کرنے پر گرفتار کرلیا تھا، تاہم وہ ضمانت پر رہا کردیے گئے تھے۔

جلیل اندرابی قتل کیس کی تفتیش کشمیر پولیس کی ایک خصوصی تفتیشی ٹیم نے کی تھی۔ اس ٹیم کی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ اُنیس سو چھیانوے میں مسٹر اندرابی اپنی بیوی کے ساتھ سفید رنگ کی ماروتی کار میں کہیں جارہے تھے کہ انہیں بعض فوجی اہلکاروں اور فوج کے ساتھ کام کرنے والے عسکریت پسندوں نے روکا اور اغوا کرلیا۔

مسٹر اندرابی کی بیوی رفعت کا کہنا ہے کہ انہیں گاڑی سے گھسیٹ کر اُتارا گیا اور اغواکار انہیں ایک آٹو رکشا میں نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ تین ہفتوں بعد یعنی ستائیس مارچ کو دریائے جہلم سے ایک بند بورا برآمد ہوا جس میں مسٹر اندرابی کی بوسیدہ لاش پائی گئی۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ چار روز تک پولیس نے شکایت تک درج نہیں کی عدالت کی مداخلت کے بعد گمشدگی کی رپورٹ لکھی گئی۔

میجر اوتار اّنیس سو چھیانوے میں سرینگر کے نواحی علاقہ راولپورہ میں مقیم بھارتی فوج کے ایک کیمپ کے انچارج تھے۔ یہ کیمپ ائیرپورٹ کے قریب واقع تھا اور اس کے ذمے مسلح شدت پسندوں کے خلاف مختلف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنا تھا۔

جلیل اندرابی کے ساتھ ساتھ کئی ایسے حکومت کے حامی بندوق برداروں کو قتل کرنے کے الزامات کے بعد میجر اوتار کشمیرچھوڑ کر ہریانہ میں مقیم ہوگئے جہاں وہ ریلوے سیکورٹی میں تعینات تھے۔ چنانچہ جموں کشمیر پولیس انہیں وہاں تلاش کرنے پہنچی تو وہ کینیڈا چلےگئے جہاں وہ اپنی بیوی کے ساتھ آباد ہوگئے۔

چند سال بعد ہی وہاں مقیم کشمیریوں کی شکایت پر جب وہاں کی پولیس نے ان سے پوچھ تاچھ کی تو وہ کیلیفورنیا کے علاقہ سیلما میں آباد ہوگئے جہاں انہوں نے ٹرکوں کے ذریعہ مال برداری کا کاروبار شروع کیا۔

جیل اندرابی کے بھائی اور اس کیس کے وکیل ارشد اندرابی نے بی بی سی کو بتایا ’شدید الزامات اور مقامی عدالتی احکامات کے باوجود میجر اوتار کو سفری دستاویز دیےگئے اور انہیں ملک چھوڑنے کی خفیہ اجازت دی گئی۔‘

مسٹر ارشد اندرابی کہتے ہیں کہ اگر حکومت ہند میجر اوتار کو قانونی کے دائرے لانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی تو ان کی بیوی اور تین بچوں کا قتل نہیں ہوتا۔

دریں اثنا جماعت اسلامی کے ترجمان زاہد علی نے ایک بیان میں اس واقعہ کو ’اللہ کا انصاف‘ قرار دے کر کہا ’جو لوگ ظلم کرتے ہیں انہیں میجر اوتار سنگھ کا انجام زیرنظر رکھنا چاہیے کیونکہ وہ ہندوستان چھوڑنے کے باوجود خدا کی گرفت سے بچ نہ سکے‘۔

اسی بارے میں