اٹھّنی کی کمی سے ٹرام کے کرائے میں اضافہ

Image caption ٹرام کولکتہ شہر کی شناخت بن چکے ہیں

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں پچاس پیسے کے سکّے کی کمی کے سبب ریاستی حکومت نے کولکتہ شہر کی شناخت بن چکے ٹرام کے کرائے میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دارالحکومت کولکتہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے معروف ٹرام کا پہلا ڈبّہ درجہ اولّ اور دوسرا ڈبّہ درجہ دوم شمار کیا جاتا رہا ہے اور دونوں کے کرائے میں پچاس پیسوں کا فرق ہوتا تھا۔

لیکن چونکہ پچاس پیسوں کے سکّے یعنی اٹھّنی کی کمی ہے اس لیے حکومت نے دونوں درجوں کے کرائے کو یکساں کر دیا ہے۔

ریاست میں نقل و حمل کے وزیر مدن متر نے اس پر بات کرتے ہوئے کہا ’دوسرے درجہ کے مسافروں کو آٹھ آنے واپس کرنے پڑتے ہیں لیکن ریاست میں پچاس پیسے کے سکّے کی قلت کے سبب ہم نے کرائے میں اضافہ کرکے چار روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ریاست میں اٹھّنی کی کمی کئی ماہ سے ہے اور حکومت نے اس کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا کو ایک خط تحریر کیا تھا لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔

مدن متر کے مطابق کرائے میں اضافے کا فیصلہ محض پچاس پیسے کے سکّے کی کمی کے سبب کیا گیا ہے اور یہ کوئی سیاسی فیصلہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ محکمہ ٹرام کے حکام کو دوئم درجہ کے مسافروں کو پچاس پیسے واپس کرنے پڑتے ہیں اور اس میں انہیں کافی پریشانیوں کا سامنا رہا ہے۔

مدن متر کا کہنا تھا ’اب ٹراموں میں درجہ دوئم نہیں ہوگا اور مسافر چاہے جتنی بھی دور سفر کریں انہیں کرایہ چار روپے ہی دینا ہوگا۔ صرف ٹرام ہی نہیں بسوں میں بھی اٹھنی کی کمی کے سبب ساڑھے چار روپے کے بجائے اب کرایا پانچ روپے ہوگا۔‘

بھارت کے کئی بڑے شہروں میں سب سے پہلے ٹرام ہی سے لوگ سفر کیا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بیشتر شہروں سے ٹرام کا خاتمہ ہوگیا اور اس کی جگہ اب میٹرو ریل یا بسوں نے لے لی ہے۔

لیکن کولکتہ میں ٹرام اب بھی مقبول ہیں اور یہ شہر کی پہچان بن چکے ہیں۔

اس شہر میں سب سے پہلے چوبیس فروری اٹھارہ سو تہتر میں ٹرام کا آغاز ہوا تھا۔ اس زمانے میں انجن کے بجائے ٹرام کو گھوڑے کھینچا کرتے تھے۔

پہلی بار کولکتہ میں انیس سو دو میں بجلی کے انجن سے ٹرام چلانے کا آغاز ہوا تب سے یہ جاری ہے۔ کولکتہ کی ٹرام میں دو ڈبے ہوتے ہیں۔

شہر میں اس وقت ایک سو پچیس ٹرام چلتے ہیں۔

اسی بارے میں