ممبئی: پارسیوں کی غربت کا نیا پیمانہ

Image caption شادی کی طرف راغب کرنے کے لیے بھی پارسی نوجوانوں کو مفت فلیٹ دیے جاتے ہیں

بھارت میں پارسی برادری کی تنظیم نے فیصلہ کیا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں اگر کسی پارسی کی ماہانہ آمدنی نوے ہزار روپے سے کم ہے تو وہ غریبی کے درجہ میں شامل سمجھا جائےگا۔

ممبئی میں پارسی برادری کی ’بمبئی پارسی پنچائیت‘ کے فیصلے کے مطابق اگر کسی پارسی کی ماہانہ آمدنی نوے ہزار روپے سے کم ہے تو وہ ایک مفت فلیٹ پانے کا حق دار ہے۔

اس سے پہلے پارسیوں میں غربت کا پیمانہ پچاس ہزار تھا لیکن مہنگائی کے سبب اسے نوے ہزار کر دیا گیا ہے۔

پارسیوں کی پنچایت نے اس سے متعلق ایک حلف نامے میں بمبئی ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے اور کہا کہ مہنگائی کے سبب پارسیوں کے لیے غربت کا یہ نیا پیمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

بھارت میں پینتیس کروڑ سے زائد لوگوں کی یومیہ تقریباً بیس روپے آمدنی ہے جنہیں خط غربت سے نیچے تصور کیا جاتا ہے لیکن پارسیوں کی برادری عام طور پر خوشحال قرار دی جاتی ہے۔

بھارت میں پارسیوں کی آبادی تیزی سے کم ہوتی رہی ہے جس پر برادری کو تشویش ہے اور اس کے لیے نئے اقدامات کی کوششیں ہورہی ہیں لیکن ممبئی جیسے صنعتی شہر میں ان کے پاس بہت جائیداد ہے۔

بمبئی پورٹ ٹرسٹ کے بعد پارسی پنچایت کے پاس ممبئی میں سب سے زیادہ زمین ہے اور یہ پنچائیت ساڑھے پانچ ہزار فلیٹ کی مالک ہے۔

پارسی پنچائیت کے رکن موہلی کولاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مفت فلیٹ دینے کا ایک مقصد پارسی لڑکے لڑکیوں کو شادی کے لیے راغب کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اگر وہ شادی نہیں کریں گے تو بچے نہیں ہوں گے، پارسی آبادی کو بڑھانے کے لیے ہم لوگوں کو اس طرح کی پیشکش کرتے ہیں۔‘

ایک تخمینے کے مطابق بھارت میں تقریباً پچپن ہزار پارسی آباد ہیں جن میں سے سب سے زیادہ یعنی پینتیس ہزار پارسی ممبئی شہر میں رہتے ہیں۔

ایک انگریزی اخبار کے مطابق یہ معاملہ بمبئی ہائی کورٹ میں پارسی پنچائیت اور ایک پارسی شخص کے درمیان مقدمہ بازی سے سامنے آيا۔

ممبئی کے ایک پارسی روہنٹن تاراپوروالا نے ہائی کورٹ میں پارسی پنچائیت کے خلاف اس بات کے لیے ایک کیس درج کیا تھا کہ انہیں اندھیری کا ایک فلیٹ مفت میں کیوں نہیں دیا گيا۔

اس کے جواب میں پنچايت کے چیئرمین نے ہائی کورٹ میں یہ حلف نامہ داخل کیا اور کہا کہ مسٹر تاراپوروالا غریب، ضرورت مند یا فلیٹ کے قابل اس لیے نہیں کہ ان کی آمدانی نوے ہزار سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی بارے میں