بارڈر سکیورٹی فورسز، ٹارچر کا نیا طریقہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 جون 2012 ,‭ 09:34 GMT 14:34 PST

بنگلہ دیش کی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں پر زیادتیوں کے الزام لگتے رہتے ہیں

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی سرحد پر تعینات بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) نے تشدد کے نئے طریقے نکالے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ سرحد پر تعینات بھارتی سکیورٹی فورسز کی دوران حراست ٹارچر یعنی ایذا رسانی سے جنوری سے اب تک اٹھارہ افراد کی موت ہو چکی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ’دوران حراست ایذائیں دینے پر بی ایس ایف کے اہلکاروں کو کوئی سخت سزا نہیں دی جاتی اس لیے بی ایس ایف اہلکاروں کو حقوق انسانی کی پامالیوں پر ڈر بھی نہیں لگتا ہے۔‘

تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت اور بی ایس ایف کے حکام کئی بار دوران حراست ٹارچر پر پابندی لگانے کی بات کہہ چکے ہیں لیکن بنگلہ دیش کی سرحد پر بی ایس ایف کے جوانوں کے ذریعے مقامی لوگوں پر ظلم و جبر جاری ہے۔

دو ہزار دس میں ہیومن رائٹس واچ نے’ٹرگر ہیپّی‘ کے نام سے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ دس برس میں بی ایس ایف نے کم سے کم ایک ہزار شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد بی ایس ایف نے گولی چلانا تو کم کردیا لیکن مقامی لوگوں کو ایذائیں دینے کے لیے نئے طریقے ڈھونڈ لیے۔

ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشاء کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی کا کہنا ہے کہ ’پہلے بی ایس ایف فائرنگ کرتی تھی جسے ہم اندھا دھند ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کہتے تھے، لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ بی ایس ایف مشتبہ لوگوں کی پٹائی کرتی ہے اور وہ اتنا زیادہ اور اس طریقے سے کرتی ہے کہ متاثرہ افراد کی موت ہوجاتی ہے۔‘

"پہلے بی ایس ایف گولی باری کرتی تھی جسے ہم اندھا دھند ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کہتے تھے، لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ بی ایس ایف مشتبہ لوگوں کی پٹائی کرتی ہے اور وہ اتنا زیادہ اور اس طریقے سے کرتی ہے کہ متاثرہ افراد کی موت ہوجاتی ہے۔"

میناکشی گنگولی

میناکشی گنگولی نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے بی ایس ایف کے ذریعے دو ہزار بارہ میں تیرہ بنگلہ دیشیوں کی موت کے ثبوت جمع کیے ہیں جبکہ کولکتہ میں معصوم نامی غیر سرکاری تنظیم نے اسی دوران پانچ بھارتی شہریوں کے مارے جانے کا ریکارڈ اکٹھا کیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ حقوق انسانی کی پامالی کرتے ہوئے بی ایف کے اہلکار اس لیے نہیں ڈرتے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگي۔

میناکشی گنگولی کہتی ہیں ’دلی میں وزارت داخلہ کہتی ہے کہ حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں برداشت نہیں کی جائیں گی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ٹارچر کے لیے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔ اگر کوئی پولیس میں شکایت درج کرانا چاہے تو پولیس نہیں سنتی، تفتیش ٹھیک سے نہیں ہوتی اور متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو کوئی معاوضہ بھی نہیں ملتا۔‘

ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ان انکشاف کے متعلق بی ایس ایف کی طرف سے تو باضابطہ کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا لیکن مغربی بنگال میں تعینات بی ایس ایف کے آئی جی روی پنوٹھ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔