’ہیڈلی اور رانا سے پوچھ گچھ کا موقع دیا جائے‘

کرشنا اور ہلیری کلنٹن تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایس ایم کرشنا اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں

بھارت نے امریکہ سے کہا ہے کہ سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے سلسلے میں حملوں بھارت کو ڈیوڈ ہیڈلی اور تہور رانا سے پوچھ گچھ کی اجازت ملنی چاہیے۔

یہ دونوں مبینہ شدت پسند اس وقت امریکی تفتیشی ایجنسیوں کی حراست میں ہیں۔

واشنگٹن میں بھارت امریکہ سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے تیسرے دور میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سے ملاقات کے بعد بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ’قانونی کاروائی کے مدنظر ممبئی حملوں کی تفتیش کے لیے بھارت ڈیوڈ ہیڈلی اور تہور رانا سے پوچھ گچھ کرنا چاہتا ہے۔‘

اس بارے میں ہلری کلنٹن کا کہنا تھا ’امریکہ اور بھارت شدت پسندی اور دیگر معاملات پر معلومات کا تبادلہ کررہے ہیں۔ معلومات کا تبادلہ کرنا ہماری پالیسی کا حصہ ہے اور ہم یہ کرتے ہیں۔ میں اس بارے میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتی لیکن خفیہ اشتراک، شدت پسندی کے خلاف جنگ اور داخلہ سیکورٹی کے معاملے میں دونوں ممالک کے درمیان اشتراک ایک نئی سطح پر پہنچ چکا ہے۔‘

ہلری کلنٹن کا مزید کہنا تھا ’بھارت اور امریکہ کے درمیان دوستی اور اشتراک کی بنیاد بہت مضبوط ہے۔‘

اس موقع پر ایس ایم کرشنا نے مزید کہا ’اس اجلاس کے لیے ہماری یہاں موجودگی دو ممالک کے درمیان رشتوں کی گہرائی بیان کرتا ہے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان باہمی مفاہمت کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر اشتراک ، اور آپسی سوچ ایک جیسی ہے۔ اس سے ہمارے رشتے مزید مضبوط ہوتے ہیں۔‘

ایس ایم کرشنا نے یہ بھی بتایا ہے کہ ہلیری کلنٹن کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے مسئلے پر غور کیا جائے۔

اس موقع پر ہلیری کلنٹن نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ ایران نے تیل کی برآمد کم کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو توانائی کی سخت ضرورت ہے اور اس سلسلے میں امریکہ اس کی ہر ممکن مدد کرے گا۔

اسی بارے میں