’مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ایک سازش‘

فصیح محمود
Image caption فصیح محمود کو سعودی عرب سے گرفتار کیا گیا تھا لیکن وہ کہاں ہے اس کے بارے میں ابھی تک ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے

بھارت میں دہشت گردی کے معاملات میں حالیہ مہینوں میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں اور پراسرار گمشدگیوں کے بارے میں حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کے پیچھے ایک منظم سوچ کارفرما ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر پست کرنا ہے ۔

مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں اور گمشدگیوں کے خلاف دلی میں جمعرات کو بارہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کیا۔

حقوق انسانی کی تنظیمیں حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے پرانے معاملوں میں ملک کی کئی ریاستوں میں بڑی تعداد میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کرتی رہی ہیں ۔

دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے گئے بہار کے ایک مزدور قتیل صدیقی کو پونے کی جیل میں قتل کیے جانے اور سعودی عرب میں ایک بھارتی انجینیئر کی مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتاری کی خبروں کے بعد حقوق انسانی کی تشویش میں میں اضافہ ہوا ہے ۔

ایک سرکردہ کارکن مشیشا سیٹھی کہتی ہیں، ’دلی ہو ۔ بہار ہو ، یوپی یا مہاراشٹر ، کسی بھی جگہ مسلمانوں کو آتنک وادی کہ کر گرفتار کیا جا سکتا ہے اور آپ کی کوئی جوابدہی نہیں ہو گی ۔ کئی برس کے بعد وہ بے قصور رہا ہو جائے گا لیکن اس کی زندگی برباد ہو چکی ہو گی‘۔

جیل میں قتیل کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سابق سربراہ اور کارکن روی نائر کہتے ہیں کہ ’بھارت میں ٹارچر یا ایذا رسانی ریاست کے طریقہ کار کا ایک ایک اہم پہلو ہے جب تک ٹارچر اور تھرڈ ڈگری کے طریقہء کار کے لیے سزا نہیں ہو گی اور متاثرین کو معاوضہ نہیں دیا جاتا تب تک اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘۔

روی کہتے ہیں کہ بھارت میں ایک جمہوری نظام ہونے کے باوجود خفیہ ایجنیساں کسی طرح کی جوابدہی سے پوری طرح آزاد ہیں اور حکومت ایجنسیوں کے جبر کے ذریعے مزہبی اقلیتوں اور قبائلی آبادی کے لیے خوف کا ایک ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے ۔ ’حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو وہ ایک خوف کا ماحول بننا چاہتی ہے ۔ حقوق کی پامالی کرنے والے مرتکبین کو یقین رہتا ہے کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو گی‘۔

دلی کے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر منظور عالم کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری میں ایک منظم طریقہء کار نظر آتا ہے اور اس کا مقصد بھارتی مسلمانوں کو پسماندگی سے سے نکلنے دینے سے روکنا ہے ۔

Image caption انسانی حقوق کی کارکنان نے حالیہ دنوں میں مسلمانوں کے مسائل پر کھل کر احتجاج کیا ہے

وہ کہتے ہیں کہ پہلے کمزور ، مزدوروں ، مدارس اور علماء کو نشانہ بنایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ یہ بنیاد پرست متشدد ہیں ۔ لیکن اب تعلیم یافتہ اور یونیورسٹی ایجوکیٹیڈ نوجوانوں کو پکڑا جا رہا ہے ۔’اس کا مقصد صاف نظر آتا ہے کہ اگر ان کی ہمت ٹوٹے گی تو پوری مسلم برادری پر اس کا منفی اثر پڑے گا اور وہ خوف کی نفسیات کا حصہ بنیں رہیں گے اور اس طرح انہیں سماجی اور اقتصادی ترقی اورتعلیم کے اصل دھارے سے الگ رکھا جا سکے گا‘۔'

دلی میں حقوق انسانی کے کارکنوں نے وزیر داخلہ پی چدامبرم کو ایک عرضداشت پیش کی ہے جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ بقول ان کے مسلمانوں کے خلاف جبر کا سلسلہ بند کرے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’یہ صرف مذہبی تفریق کا سوال نہیں ہے ۔اس پر انصاف اور جمہوریت کا مستقبل ٹکا ہوا ہے‘۔

اسی بارے میں