بھارت آئی ایم ایف کو10 ارب ڈالر دے گا

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption عالمی رہنماؤں نے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات کرنے کا عزم کیا ہے

بھارت نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورو زون کی لڑکھڑاتی معیشت کے استحکام کے لیے عالمی مالیاتی ادارے آئي ایم ایف کو دس ارب امریکی ڈالر کے اضافی فنڈز مہیا کرے گا۔

یورو زون کے موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کے خزانے میں چار سو تیس ارب ڈالر کی اضافی رقم جمع کی جا رہی ہے۔

میکسیکو میں معاشی سطح پر دنیا کے بیس بڑے ممالک پر مشتمل جی ٹوئنٹی کی ساتویں کانفرنس کے موقع پر برکس ممالک نے آئی ایم ایف کے خزانے کو ساٹھ ارب ڈالر کی رقم دینے کا وعدہ کیا۔

بھارت، روس، برازیل، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل پانچ ابھرتی معیشت والے ممالک برکس کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

میکسیکو میں جی ٹوئنٹی کانفرنس کے ابتدائي اجلاس کے دوران بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے ایک بیان میں کہا ’عالمی مالیاتی ادارہ ( آئی ایم ایف) کو یورو زون کے استحکام کے لیے اہم مددگار کردار ادا کرتا ہے اور تمام ارکان فنڈ میں مدد کر کے اسے جاری رکھیں۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ بھارت نے آئی ایم ایف کے اضافی چار سو تیس ارب ڈالر کے فائر وال کے لیے دس ارب ڈالر دینے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

چین کے نائب وزیر خزانہ گوانگو نے اس موقع پر کہا ہے کہ یورو زون کی مدد کے لیے جو فائر وال کے نام سے رقم جمع کی جارہی ہے اس میں برکس ممالک ساٹھ ارب ڈالر دینے کے اپنے وعدے پر قائم ہیں۔

لیکن برکس کی طرف سے جاری ایک بیان یہ بھی کہا گيا ہے کہ ’یہ نئے تعاون اس امید کے ساتھ کیے جا رہے ہیں کہ سنہ دو ہزار دس میں جن اصلاحات پر اتفاق رائے ہوا تھا ان پر وقت کی مناسبت سے عمل کیا جائےگا۔ اس کے ساتھ ہی ادارہ میں ووٹنگ کے حقوق اور ریزرویشن کی پالیسی میں بھی تبدیلی کی جائےگي‘۔

برکس ممالک کا یہ بھی کہنا ہے کہ یوروزون کے استحکام کے لیے پہلے ان ذرائع کا استعمال کیا جائیگا جو ادارہ کے پاس پہلے ہی سے موجود ہیں اور ان کے ختم ہونے پر نئی رقم استعمال کی جائے۔

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ایسا تصور پایا جاتا ہے کہ عالمی معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے موجودہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔

میکسکو میں جی ٹوئٹنی کانفرنس ایک ایسے وقت ہورہی ہے جب یورو زون سنگین قسم کے معاشی بحران سے دوچار ہے۔ جی ٹوئنٹی میں وہ بیس ملک شامل ہیں جن کے پاس سے دنیا کی تقریبا اسّی فیصد جی ڈی پی آتی ہے۔

اسی بارے میں