اسرائیلی سیاح، کشمیری حکومت پریشان

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی مقامی حکومت کا ایک وفد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کی غرض سے اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کا دورہ کررہا ہے۔

تاہم علیحدگی پسندوں اور حزب اختلاف کی جانب سے سخت مخالفت کے خدشے کے پیشِ نظر حکام اس دورے کے دوران اسرائیل جانے کے ارادے پر نظرثانی کررہے ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرسیاحت رِگزن جورا کی قیادت میں یہ وفد مشرق وسطیٰ اور بعض خلیجی ممالک کا بھی دورہ کرے گا۔

علیحدگی پسند رہنما محمد اعظم انقلابی نے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ’عمرعبداللہ کی حکومت میں بعض اسرائیلی ایجنٹ ہوں گے جنہوں نے انہیں سیاحت کے شعبے میں ایک استعماری ریاست کے ساتھ اشتراک کا مشورہ دیا ہے۔‘

لیکن حکومت علیحدگی پسندوں کے اس ردعمل کو معلومات کے فقدان کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ سیاحت کی وزارت سے منسلک ایک افسر نے بتایا ’جموں کشمیر محض ایک بھارتی ریاست ہے، لہٰذا ہم کسی ملک کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرسکتے۔ دراصل حکومت ہند نے پندرہ ریاستوں کو مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں ہونے والے سیاحتی مارٹس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔‘

شعبہ سیاحت کے سربراہ طلعت پرویز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دورے کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ ’اسرائیل چونکہ مشرق وسطیٰ کا حصہ ہے، لہٰذا لوگوں نے فرض کرلیا ہے کہ ہم اسرائیل بھی جائیں گے۔ ابھی یہ طے نہیں ہے کہ آیا یہ وفد دورے کے دوران اسرائیل بھی جائے گا۔‘

طلعت پرویز نے صاف اشارہ دیا کہ حکومت کو اسرائیل کے دورے پر تحفظات ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور بھارت کے درمیان دفاعی تعاون پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند اکثر بیان بازی کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر کی اٹھائیس رکنی قانون ساز اسمبلی میں حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کی صرف اٹھائیس نشستیں ہیں اور پارٹی کا بنیادی ووٹ بینک مسلم آبادی ہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے اٹھارہ ماہ کے دوران دو ہزار سے زائد اسرائیلی سیاحوں نے کشمیر اور لداخ کی سیر کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کم آبادی والا ملک ہے اور وہاں کی آبادی کا بہت قلیل حصہ سیر و تفریح پر سرمایہ خرچ کرتا ہے۔

محکمہ سیاحت سے سبکدوش ہو چکے ایک سینیئر افسر نے بتایا ’اسرائیل میں ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ فوج میں دو سال صرف کرے۔ فوج سے فراغت کے بعد یہ لڑکے اور لڑکیاں اپنی تنخواہیں سیر سپاٹے پر صرف کرتے ہیں۔ لیکن ان کی تعداد بہت قلیل ہے۔‘

واضح رہے کہ جون اُنیس سو اکانوے میں مسلح شورش شروع ہونے کے بعد چھ اسرائیلی سیاحوں کو اغوا کیا گیا جس کے دوران ان کا اغواکاروں کے ساتھ تصادم ہوا۔ تصادم میں ایک اسرائیلی سیاح اور دو اغوا کار ہلاک ہوگئے جبکہ باقی سیاحوں کو عسکریت پسندوں نے رہا کردیا۔

لیکن اس واقعے کے چند سال بعد ہی اسرائیلی سیاحوں نے دوبارہ کشمیر کا رُخ کیا۔ شعبہ سیاحت کے افسروں کا کہنا ہے ’اس واقعے کے بعد یورپی سیاحوں نے تو آنا بند کردیا لیکن اسرائیلی لداخ کے سرد ماحول میں برف پوش پہاڑوں پر چڑھائی کا لطف لینے کے لیے آتے رہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے اسرائیل اور کشمیر کے درمیان تمدن اور رہن سہن کی مطابقت پائی جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی کشمیر کے صحت افزا مقام پہلگام میں ایک پہاڑی خطہ آڑو کے ریسٹورانٹس کا مینیو عبرانی زبان میں شائع ہوتا ہے۔ ان ہوٹلوں میں ’کوشر‘ پکوان ہوتے ہیں اور یہودیوں کی طرز پر بنی روٹیاں بھی دستیاب ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں یہود بیزاری کے پیچھے تاریخی محرکات کار فرما ہیں۔ بعض حلقے کہتے ہیں اسرائیلی دانشوروں نے پچھلے دس سال کے دوران کشمیریوں کی تحریک کی حمایت بھی کی۔

امریکی دانشوروں ڈیوڈ بارسامیان اور پروفیسر ریچرڑ شاپِرو، جو دونوں یہودی ہیں، نے کشمیر آکر یہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اُٹھائی جس کے بعد حکومت ہند نے ان کے کشمیر میں داخلہ پر پابندی عائد کردی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے سابق فوجی حکمران پرویزمشرف نے جب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا تو کشمیر میں کوئی قابل غور ردعمل نہیں ہوا۔

اسی بارے میں