ٹاٹا کی جیت، ریاستی حکومت کی ہار

سنگور کے کسان
Image caption سنگور میں بھارت کر بڑی صنعتی کمپنی ٹاٹا موٹرز نے ہزار ایکڑ ارضی لی تھی۔

بھارتی ریاست مغربی بنگال میں کولکتہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کے اس قانون کو غیرآئینی قرار دیا ہے جس کے تحت سنگور کے علاقے میں کسانوں سے حاصل کی گئی اراضی انھیں واپس لوٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسانوں کو ان کی زمین واپس کرنے کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔

انھوں نے کہا:’سنگور کے جو کسان اپنی زمینیں نہیں دینا چاہتے ہیں انھیں ان کی زمین واپس مل جائیں گی اور حکومت اس کی پابند ہے۔‘

گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹاٹا موٹرز نے دنیا کی سب سے سستی نینو کار بنانے کے لیے سنگور میں تقریباً ایک ہزار ایکڑ زمین کسانوں سے خریدی تھی۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی ممتا بینرجی کی حکومت نے ایک قانون بناکر اس میں سے چار سو ایکڑ زمین کسانوں کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ٹاٹا موٹرز نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

عدالت کے فیصلے پر ممتا بنرجی نے کہا' ہم کسانوں کے ساتھ ہیں اور مستقبل میں بھی ان کے ساتھ رہیں گے۔ آخر میں جیت ان کی ہی ہوگی۔

Image caption ٹاٹا موٹرز سنگور میں نینو کار کا کارخانہ بنانا چاہتی تھی۔

دوسری جانب کولکاتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ریاست میں حزب اختلاف اور سی پی ایم کے رہنما سوریہ کانت مشرا نے کہا کہ اس فیصلہ سے ان کی پارٹی کی پوزیشن سہی ثابت ہوتی ہے۔

اس بابت ان کا کہنا تھا، 'ہم کہتے رہے ہیں کہ یہ قانون غیر آئینی ہے اور ہم نے حکومت کو کئی قسم کے مشورے بھی دیۓ کہ یہ معاملہ کس طرح سلجھایا جائے۔'

ممتا بینرجی کے لیے ریاست میں بائیں محاذ کے خلاف زبردست حمایت کا آغاز سنگور کے علاقے سے ہی ہوا تھا جہاں انھوں نے ٹاٹاموٹرز کے خلاف تحریک شروع کی تھی۔

انھوں نے اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ سنگور کی اراضی کسانوں کو لوٹائیں گی۔

ایک برس قبل ایک قانون منظور کرتے ہوئے ان کی حکومت نے ٹاٹا کی ساری زمینیں اپنے قبضے میں لے لی تھیں اور اس میں سے چارسو ایکڑ زمین کسانوں کو واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔

ٹاٹا موٹرز نے اس معاملے کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور ایک اپیل کے بعد ہائی کورٹ کی ایک ڈیویژن بنچ نے حکومتی قانون کو غیر آئینی قرار دیا ہے اور حکومت کو اپیل کرنے کے لیے دوماہ کی مہلت فراہم کی ہے۔

ٹاٹا موٹرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے زمین کے حصول کے بعد کافی سرمایہ کاری کی تھی اور کسانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی اپنی زمین واپس نہیں لینا چاہتی بلکہ وہ وہاں کارخانے میں ملازمت چاہتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ درست نہیں کہ فریقین کے مفادات کا خیال کیے بغیر ہی کسانوں کو زمین واپس کر دی جائے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ در اصل زمین کے حصول اور اس کی واپسی کا مسئلہ بہت حساس ہے۔ اگر کسی ایک ریاست نے اس طرح اپنی مرضی کے مطابق قانون بنا لیا تو پھر دیگر ریاستی حکومتیں بھی ایسا ہی کرنے کا سوچیں گي۔

اسی بارے میں