’ کانگریس رہنما کے بیٹوں کی بھوک سےموت‘

رام گڑھ تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے رام گڑھ میں دو سگے بھائی کی موت پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔

بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کی حکومت نے رام گڑھ ضلع میں دو سگے بھائیوں کی مبینہ طور پر بھوک کی وجہ سے موت کے معاملے میں تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

یہ دونوں بھائی رام گڑھ میں کانگریس کے معمر رہنما کے جوان بیٹے تھے اور کہا جا رہا ہے کہ ان کی موت کا سبب معاشی بدحالی تھی۔

کچھ سماجی حلقوں میں موت کا سبب بھوک بھی بتایا جا رہا ہے لیکن اس بات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔

رام گڑھ کےضلع کلکٹر نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تحقیقات مجسٹریٹ کے ذریعے کرائی جائے گی۔

ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق دونوں بھائیوں، اٹھائیس سالہ منیش اور پچیس سالہ رجنیش کی آخری رسومات طبی جانچ کے بغیر ہی کر دی گئی تھی اور اسی لیے تحقیقات میں دقتیں پیش آرہی ہیں۔

معاملہ ایک معمر کانگریسی رہنما سے جڑا ہوا ہے اس لیے ریاست کی حزب اختلاف کی اہم جماعت کانگریس کے تیور سخت ہو گئے ہیں۔تنظیم نے معاملے کی تحقیقات کے لیے رانا سنگرام سنگھ کی قیادت میں ایک سہ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

مرنے والوں کے والد ستر سالہ شیوکمار سنگھ علاقے میں کانگریس کے پرانے کارکن رہ چکے ہیں۔ وہ خود بھی جبڑے کے کینسر کا شکار ہیں اور ان کی اہلیہ کو دل کی بیماری ہے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ منیش اور رجنیش بھی کافی عرصے سے بیمار تھے اور شیوکمار سنگھ کا کنبہ معاشی تنگی کے دور سے گزر رہا تھا کیونکہ دس سال قبل ان کی نوکری چلی گئی تھی۔

شیو کمار سرکا کولیاری میں نوکری کرتے تھے اور دس سال قبل ان پر پچاس لاکھ روپے کے غبن کا الزام لگا گیا تھا۔ ہرچند کہ بعد میں انھیں ان الزامات سے بری قرار دیا گیا تھا لیکن انھیں دوبارہ نوکری پر بحال نہیں کیا گیا۔

حکومت کا دعوٰی ہے کہ ان کی معاشی بدحالی کے سبب ہی انھیں خط افلاس سے نیچے والے لوگوں کا راشن کارڈ دیاگیا تھا۔

بہر حال رام گڑھ ضلع کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابھی نہ تو یہ مانا جا سکتا ہے کہ ان دونوں بھائیوں کی موت بھوک سے ہی ہوئی ہے اور نہ اس بات سے انکار ہی کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں