لائن آف کنٹرول کے راستے تجارت کی جزوی معطلی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی اور بھارتی افواج کے درمیان فائرنگ کے حالیہ واقعات کا آغاز جون کے اوائل میں ہوا

کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کی افواج کے مابین حالیہ کشیدگی کا اثر باہمی تجارت پر بھی پڑا ہے اور فائرنگ کے دوطرفہ واقعات کے بعد ایل او سی کے راستے دونوں ممالک کے زیرانتظام کشمیری خطوں کے درمیان ہونے والی تجارتی سرگرمیاں جزوی طور پر معطل ہوگئی ہیں۔

پاکستانی اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ کے حالیہ واقعات کا آغاز جون کے اوائل میں پونچھ ضلع کے ’کرشنا گھاٹی‘ سیکٹر میں ہوا تھا۔

اس واقعے کے بعد چکاندا باغ اور راولاکوٹ تجارتی مرکز سے ہونے والی تجارت التواء کا شکار ہوگئی۔ تیرہ جون کو یہاں تجارتی سلسلہ بحال ہوا لیکن دوبارہ فائرنگ کے واقعات کے بعد اسے ایک بار پھر سے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ تجارت ہفتے میں چار روز یعنی منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ کو پاکستان اور ہندوستان کے زیرانتظام خطوں کے درمیان جنس کے بدلے جنس اصول کے تحت ہوتی ہے۔

پاکستان کا مؤقف

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع راولاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر سہیل اعظم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کی فائرنگ کی وجہ سے راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان بس سروس اور تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

’بھارتی مقبوضہ کشمیر کی طرف سے پہلے بھارتی فوج نے پہلے سول آبادی پر ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور پھر بھاری ہتھیاروں سے گولہ کی گئی جس کی وجہ یہ فیصلہ کیا گیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس کا فیصلہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قائم لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت اور سفر کے نگران ادارے ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی کے سربراہ ریٹائرڈ برگیڈیئر محمد اسماعیل نے کیا تھا۔

ریٹائرڈ برگیڈیئر محمد اسماعیل نے اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تجارت اور بس سروس اس لیے بند کی گئی کیونکہ راولاکوٹ سیکٹر میں انڈیا نے فائرنگ کی جس سے چار گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ لوگ زخمی ہوئے اور سڑک بند ہوگئی تھی اور لوگ گھروں تک محدود ہوگئے تھے اور اسی صورتحال میں کیسے ٹریڈ ہوسکتی ہے۔‘

انہوں نے زمید کہا ’مال کی گاڑیاں آئیں گی اور وہ کراس نہ کرسکیں اور ان میں تازہ پھل اور سبزیاں خراب ہوجائیں گی تو کیسے ٹریڈ کرسکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے مقامی فوجی حکام کے درمیان ملاقات ہوئی ہے لیکن اس بات چیت میں کیا فیصلہ ہوا ہے اس بارے میں انھیں معلوم نہیں۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے مقامی فوجی افسروں کی ملاقات کے بعد اب لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا تبادلہ رک چکا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے امید ظاہر کی کہ تجارت اور بس سروس جلدی ہی بحال ہوگی۔ لیکن ڈپٹی کمشنر نے یہ نہیں بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کیوں شروع ہوئی البتہ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ اچانک ہی ہوا۔

بھارت کا مؤقف

منگل کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے تاجروں کو اُس وقت مایوسی ہوئی جب ایل او سی تجارت کے نگران عبدالحمید شیخ نے انہیں بتایا کہ ’آج تجارت نہیں ہو سکتی‘۔

عبدالحمید شیخ نے بی بی سی اردو کے ریاض مسرور کو بتایا ’میں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنے ہم منصب ارشد محمود سے بات کی جنہوں نے بتایا کہ پاکستانی حکام نے ابھی تجارت کی بحالی کی اجازت نہیں دی ہے۔ لیکن ہماری حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے‘۔

حمید شیخ نے بتایا کہ پاکستان نے وعدہ کیا ہے کہ دو جولائی کو تجارت بحال کر دی جائے گی۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کی کوششوں کے نتیجے میں اکیس اکتوبر دو ہزار آٹھ کو کشمیر کے پونچھ میں راولاکوٹ۔چکاندا باغ اور بارہمولہ میں اسلام آباد۔چکوٹھی تجارتی مراکز کھولے گئے۔

چکانداباغ مرکز کے نگران نے مزید بتایا کہ ابھی تک یہاں سے بھارتی کرنسی میں دو ارب پچیس کروڑ روپے مالیت کی اشیا برآمد کی گئیں جبکہ پاکستانی کشمیر سے پاکستانی کرنسی کے مطابق چار ارب سے زیادہ مالیت کی اشیا درآمد ہوئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد۔چکوٹھی تجارتی مرکز پر تجارت باقاعدگی سے ہو رہی ہے۔ اس مرکز کے نگران نور محمد بابا نے بتایا کہ چار سال میں کُل ملا کر پاکستانی اور بھارتی تاجروں نے ایک ہزار چار سو کروڑ روپے مالیت کی اشیاء کا تبادلہ کیا۔

چکاندا باغ مرکز سے تجارت کرنے والے تاجروں کی انجمن کے سربراہ پون آنند نے بی بی سی کو بتایا ’تیرہ جون کو تجارت معطل ہونے کی وجہ سے ابھی تک تیس کروڑ سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ ہمارے یہاں تاجر اب اسلام آباد۔ چکوٹھی مرکز کا رُخ کررہے ہیں لیکن اس سے لین دین کے تنازعات پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے‘۔

پون آنند نے بتایا کہ کرشنا گھاٹی، جہاں فائرنگ ہوئی تھی، تجارتی مرکز سے کافی فاصلے پر ہے اور اس کا تجارت پر کوئی براہ راست اثر نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے ’سمجھ نہیں آتا کہ پاکستان نے پھر بھی تجارت کو معطل کیوں کر دیا۔ چار سال سے جو ہم تجارت کررہے ہیں اسی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کی فضا قائم ہوئی ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ محنت ضائع ہوگئی۔‘

واضح رہے پاکستان اور بھارت کے فوجی افسروں نے دو مرتبہ کنٹرول لائن پر فلیگ میٹنگ بھی کی جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ تو رُک گیا ہے لیکن تجارت کے حوالے سے تعطل اب بھی برقرار ہے۔

اسی بارے میں